ایران کے معاملے پر چین کی مدد کی ضرورت نہیں: امریکی وزیر خارجہ

امریکی وزیر جنگ مارکو روبیو نے واضح کیا ہے کہ امریکا نے ایران کے معاملے پر چین سے مدد نہیں مانگی، ہمیں ان کی مدد کی ضرورت نہیں ہے، چین نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو عسکریت کا مرکز بنانے کے حق میں نہیں ہیں، چین آبنائے ہرمز میں ٹول ٹیکس لگانے کا مخالف ہے اور یہی امریکا کا مؤقف بھی ہے۔

جمعرات کو بیجنگ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ہونے والی اعلیٰ سطح ملاقات کے بعد امریکی نیوز چینل این بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ امریکا ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے خود مختار ہے تاہم انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ دونوں عالمی طاقتیں بعض اہم علاقائی امور پر “مشترکہ موقف” رکھتی ہیں۔

مارکو روبیو نے بتایا کہ صدر ٹرمپ اور شی جن پنگ کے درمیان بات چیت میں ‘آبنائے ہرمز’ کا معاملہ سرفہرست رہا۔ انہوں نے کہا چینی فریق نے واضح کیا کہ وہ آبنائے ہرمز کی عسکریت پسندی اور وہاں کسی بھی قسم کے ‘ٹول سسٹم’ محصولات کے نظام) کے نفاذ کے حق میں نہیں ۔ یہ وہی پوزیشن ہے جو امریکہ کی ہے اور یہ خوش آئند ہے کہ اس نکتے پر ہم ایک صفحے پر ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ چین بھی ایران کے جوہری ہتھیار تیار کرنے کے خلاف ہے اور اس حوالے سے دونوں ممالک کے تحفظات یکساں ہیں تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکا چین سے کوئی “درخواست” نہیں کر رہا بلکہ صرف اپنے مفادات اور عالمی استحکام کے لیے بات چیت کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایران، امریکا کی اندروانی سیاست کا استعمال کرکے انہیں بری ڈیل پر مجبور نہیں کرسکتا۔ مارکو روبیو نے ایرانی قیادت کو خبردار کیا کہ وہ امریکی اندرونی سیاست یا سیاسی تقسیم کو اپنے حق میں استعمال کرنے کی کوشش نہ کرے۔

مارکو روبیو نے سخت لہجے میں کہا کہ صدر ٹرمپ واضح کر چکے ہیں کہ اگر ایرانیوں کا خیال ہے کہ وہ ہماری ملکی سیاست کو استعمال کر کے ہم پر کسی ‘برے سودے’ کے لیے دباؤ ڈال سکیں گے تو یہ ان کی بھول ہے؛ ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ میرے خیال ہے چین چاہے گا کہ تائیوان رضاکارانہ طور پر چین میں شامل ہو، چین چاہے گا تائیوان ووٹ یا ریفرنڈم سے چین میں شامل ہونے کے حق میں فیصلہ کرے، میرے خیال میں تائیوان معاملے پر یہی چین کی ترجیح ہوگی۔ 

امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ تائیوان کا چین میں انضمام چینی صدر کے ابتدائے حکومت سے ان کے ایجنڈے میں شامل ہے۔ امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ چین اسے ری یونیفکیشن کہتا اور سمجھتا ہے۔ یہ کسی نہ کسی وقت پر ہوجائے گا، امریکا سمجھتا ہے اسے طاقت یا زبردستی کے ذریعے نافذ کرنا بہت بڑی غلطی ہوگی۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles