
غزہ میں جاری مسلسل جنگ اور سنگین انسانی بحران کے باوجود، باصلاحیت نوجوانوں نے ٹیکنالوجی کو بقا اور مدد کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ انٹرنیٹ کی بندش، بجلی کا بحران اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی جیسے کٹھن حالات بھی ان نوجوانوں کے حوصلے پست نہ کرسکے۔
الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق غزہ کے نوجوان ڈویلپرز، جنگ کی تباہ کاریوں اور روزمرہ کے سنگین مسائل کا حل نکالنے کے لیے ٹیکنالوجی کا سہارا لے رہے ہیں۔
اسرائیل کی مسلسل بمباری اور ناکہ بندی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بحرانوں نے یہاں کے ’ٹیک سیکٹر‘ کو ایک نیا رخ دے دیا ہے، جہاں اب ایپس محض سہولت کے لیے نہیں بلکہ بقا کے لیے بنائی جا رہی ہیں۔
انٹرنیٹ کی بندش، بجلی کی قلت اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی جیسے کٹھن حالات میں یہ ڈویلپرز ایسے جدید موبائل ایپلی کیشنز تیار کر رہے ہیں جو روزمرہ کے پیچیدہ مسائل، جیسے ٹرانسپورٹ کی کمی اور نقل مکانی کے دوران گمشدہ اشیاء کی تلاش، کا عملی حل فراہم کرتے ہیں۔
غزہ شہر میں ”طاقت غزہ“ نامی ایک مشترکہ ’کو ورکنگ اسپیس‘ ان ڈویلپرز کے لیے ایک جائے پناہ اور کام کا مرکز بن گئی ہے، جہاں موجود نوجوان ایسے ڈیجیٹل حل تیار کر رہے ہیں جو براہِ راست جنگی صورتِ حال سے پیدا ہونے والے مسائل کو حل کر سکیں۔
انہی ڈویلپرز میں 23 سالہ پروگرامر سجیٰ الغول شامل ہیں جنہوں نے ”وصیلنی“ نامی ایک موبائل ایپ تیار کی ہے۔ جنگ کی وجہ سے غزہ میں ایندھن کی قلت اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے، جس کے حل کے لیے یہ ایپ لوگوں کو رائڈ شیئرنگ کی سہولت دیتی ہے۔
اس کے ذریعے مسافر ایک ہی سمت جانے والی گاڑیوں میں اپنی سِیٹس بُک کر سکتے ہیں اور اخراجات آپس میں بانٹ لیتے ہیں۔ نقد رقم کی شدید کمی کو دیکھتے ہوئے اس ایپ میں ایک پری پیڈ الیکٹرانک والٹ بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ ادائیگیوں میں آسانی ہو سکے۔
ایک اور اہم ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے 26 سالہ بہاء الملاحی نے ”رجّع لِی“ نامی پلیٹ فارم تیار کیا ہے۔ نقل مکانی کے دوران لوگوں کا سامان، اہم دستاویزات اور موبائل فونز بڑے پیمانے پر گم ہو گئے ہیں، جس کے لیے یہ ایپ ایک سینٹرل ڈیٹا بیس فراہم کرتی ہے۔
بہاء اس ایپ کو مزید وسعت دے کر لاپتہ بچوں کی تلاش کے لیے بھی استعمال کرنا چاہتے ہیں، تاکہ کسی مخصوص علاقے میں بچہ لاپتہ ہونے پر قریبی صارفین کو تصاویر کے ساتھ فوری الرٹ موصول ہو سکے۔
”طاقت غزہ“ نامی ادارے کے بانی، انجینئر شریف نعیم بتاتے ہیں کہ یہ مرکز محض ایک دفتر نہیں بلکہ غزہ کے تباہ حال ٹیک سیکٹر کو دوبارہ زندہ کرنے کی ایک کوشش ہے۔
جنگ کے دوران ہزاروں فری لانسرز بجلی اور انٹرنیٹ کی عدم دستیابی کی وجہ سے بے روزگار ہو گئے تھے، جنہیں اب یہ مرکز کام کے لیے محفوظ جگہ فراہم کر رہا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ یہ ادارہ ”نالج گیپ“ کو پر کرنے کے لیے بھی کام کر رہا ہے، کیونکہ جنگ کے دو سالوں کے دوران دنیا بھر میں اے آئی میں ہونے والی تیز رفتار ترقی سے غزہ کے نوجوان کٹ کر رہ گئے تھے۔
ان تمام تر کوششوں کے باوجود ڈویلپرز کو کئی بڑے مالی اور تکنیکی مسائل کا سامنا ہے۔ اے آئی کے ٹولز اور سافٹ ویئر کی سبسکرپشنز انتہائی مہنگی ہیں اور انٹرنیٹ و بجلی کا حصول ایک مشکل ترین عمل بن چکا ہے۔
اس کے علاوہ ان ایپس کی بڑے پیمانے پر کامیابی کے لیے مقامی حکام کے تعاون اور عوام کے بھرپور اعتماد کی ضرورت ہے۔ شریف نعیم کے مطابق، غزہ کے یہ نوجوان اپنے ذاتی تجربات کی بنیاد پر عملی حل تیار کر رہے ہیں اور ثابت کر رہے ہیں کہ اگر انہیں درست ماحول اور سرمایہ کاری ملے تو وہ ٹیکنالوجی کے ذریعے نامساعد حالات کا زیادہ بہتر انداز میں مقابلہ کر سکتے ہیں۔