پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی اپنی سماجی خدمات اور کرکٹ کی وجہ سے تو مشہور ہیں ہی لیکن وہ اکثر اپنے بیانات کی وجہ سے بھی خبروں کی زینت بنے رہتے ہیں۔ وہ ایک بار پھر اپنے متنازع بیان کی وجہ سے خبروں میں آ گئے ہیں۔
حال ہی میں اسلام آباد کے ایک نجی اسکول کی تقریب میں بچوں کی پرورش اور موبائل فون کے استعمال سے متعلق ان کے ایک بیان نے نئی بحث چھیڑ دی ہے جس پر سوشل میڈیا صارفین انہیں آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شاہد آفریدی نے والدین اور اساتذہ پر زور دیا کہ وہ بچوں کی دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کی اخلاقی تربیت پر زیادہ توجہ دیں۔
انہوں نے والدین کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ تعلیم چاہے دینی ہو یا دنیاوی وہ بہت اہم ہے لیکن والدین کی اصل ذمہ داری تربیت ہے۔ اخلاقی اور مذہبی تربیت کے بغیر تعلیم کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ انہوں نے اسکول انتظامیہ سے بھی کہا کہ وہ بچوں کے بہتر اخلاق پر توجہ دیں۔
موبائل فون کے استعمال پر بات کرتے ہوئے شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ آج کل جب بچے روتے ہیں تو والدین ان کے ہاتھ میں موبائل فون تھما دیتے ہیں حالانکہ بچوں کو موبائل فون سے دور رکھنا چاہیے کیونکہ یہ ایک بیماری ہے۔
انہوں نے اپنی نجی زندگی کی مثال دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ میں نے اپنی بیٹیوں کو شادی سے پہلے موبائل فون نہیں دیا تھا۔
شاہد آفریدی نے یہ بھی واضح کیا کہ بچوں کی پرورش صرف ماں کی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ والدین دونوں کو مل کر یہ فرض نبھانا چاہیے اور اپنے بچوں کو وقت دینا چاہیے۔
شاہد آفریدی کا یہ بیان سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر تبصروں کا ایک طوفان آ گیا اور لوگوں نے ان کی سوچ کو قدامت پسند قرار دیا۔
بہت سے صارفین کا کہنا تھا کہ موجودہ دور میں ٹیکنالوجی سے مکمل دوری ممکن نہیں بلکہ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کو اس کا درست اور ذمہ دارانہ استعمال سکھائیں۔

ایک صارف نے سخت تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ آپ نے اپنی بیٹیوں کو موبائل فون نہیں دیا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کو کبھی ان پر بھروسہ ہی نہیں تھا۔

بحث یہاں ختم نہیں ہوئی بلکہ ایک اور صارف نے تبصرہ کیا کہ وہ بیٹیاں تھیں اس لیے آپ نے موبائل فون نہیں دیا اگر بیٹے ہوتے تو آپ انہیں بلوغت سے پہلے ہی فون دے دیتے۔

زیادہ تر لوگوں کا یہ ماننا تھا کہ بچوں پر جتنی زیادہ پابندیاں لگائی جائیں وہ اتنے ہی باغی ہو جاتے ہیں اس لیے پابندی کے بجائے رہنمائی زیادہ بہتر راستہ ہے۔
