
بھارتی ریاست تامل ناڈو کی حکومت نے شدید سیاسی اور قانونی دباؤ کے بعد نجومی رکی رادھن پنڈت ویٹریول کی بطور اسپیشل ڈیوٹی آفیسر تقرری واپس لے لی ہے۔ یہ فیصلہ ایک دن کے اندر سامنے آیا، جس نے ریاستی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
بھارتی اخبار ’ٹیلی گراف انڈیا‘ کے مطابق تامل ناڈو حکومت نے بدھ کے روز حکم جاری کرتے ہوئے ویٹریول کو وزیراعلیٰ سی جوزف وجے کا سیاسی معاون مقرر کرنے کا فیصلہ واپس لے لیا۔ سرکاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ تقرری کا سابقہ حکم فوری طور پر منسوخ کیا جاتا ہے۔
یہ معاملہ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب مدراس ہائی کورٹ میں اس تقرری کو چیلنج کیا گیا۔ درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا کہ ایک نجومی کو سرکاری عہدے پر تعینات کرنا بھارتی آئین کے سائنسی طرزِ فکر کے اصول کے خلاف ہے۔
تقرری کے اعلان کے بعد سیاسی حلقوں میں بھی سخت ردعمل سامنے آیا تھا۔ حکومتی اتحادی جماعتوں نے اس فیصلے پر سوال اٹھائے، جب کہ اپوزیشن نے اسے انتظامی اصولوں کے منافی قرار دیا۔
کانگریس کے رکنِ پارلیمان سسی کانت سینتھل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایک نجومی کو سرکاری عہدہ دینے کا کیا جواز ہے، یہ بات سمجھ سے باہر ہے۔
ویٹریول کو وزیراعلیٰ وجے کی سیاسی جماعت تملگا وکٹری کزاگم سے قریب سمجھا جاتا ہے۔ وہ اس سے قبل بھی مختلف پیش گوئیوں کی وجہ سے خبروں میں رہے ہیں اور انہیں پارٹی کی ابتدائی کامیابیوں کے حوالے سے اہم شخصیت کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے۔
ان کا نام سابق وزیر اعلیٰ جے جے للیتا کے دور میں بھی سامنے آ چکا ہے، جب وہ ان کے ذاتی نجومی کے طور پر جانے جاتے تھے۔ تاہم بعد میں بعض پیش گوئیوں کے غلط ثابت ہونے کے بعد ان کے کردار پر بھی سوالات اٹھے تھے۔
خیال رہے کہ بھارت میں سرکاری عہدوں پر تقرریوں کے لیے آئینی اصول واضح ہیں اور سائنسی طرزِ فکر کو حکومتی فیصلوں میں بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ اسی وجہ سے ایسے معاملات اکثر سیاسی اور قانونی تنازعات کا باعث بنتے ہیں۔