آبنائے ہرمز میں حملے کا نشانہ بننے والے جہازوں کی آخری پکار ایک چھوٹا سا دفتر کیوں ہے؟

جب آبنائے ہرمز میں کسی تجارتی جہاز پر حملہ ہوتا ہے یا اسے خطرہ محسوس ہوتا ہے، تو مدد کے لیے اس کی پہلی پکار ہزاروں میل دور برطانیہ کے جنوبی ساحل پر واقع پورٹسماؤتھ کے ایک فوجی اڈے پر سنی جاتی ہے۔

یہ دفتر ’یونائیٹڈ کنگڈم میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز سینٹر‘ (یو کے ایم ٹی او) کا ہے، جو برطانوی بحریہ کی نگرانی میں کام کرتا ہے اور دنیا کی مصروف ترین سمندری گزرگاہوں میں تجارتی جہازوں کے لیے ہنگامی سروس اور مانیٹرنگ کا فریضہ انجام دیتا ہے۔

اس تنظیم کی بنیاد تقریباً 25 سال قبل دبئی میں نائن الیون کے حملوں کے جواب میں رکھی گئی تھی، جس نے بعد میں صومالیہ کے ساحلوں پر قزاقی کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا۔

رواں برس 28 فروری کو ایران کے خلاف شروع ہونے والی جنگ کے بعد سے اس ادارے کی اہمیت ملاحوں اور شپنگ کمپنیوں کے لیے مزید بڑھ گئی ہے، خاص طور پر بحیرہ احمر، بحر ہند اور خلیج فارس میں سفر کرنے والے جہاز اس پر بہت زیادہ انحصار کر رہے ہیں۔

اس مرکز کی سربراہ کمانڈر جوانا بلیک کا کہنا ہے کہ سب سے زیادہ تکلیف دہ لمحات وہ ہوتے ہیں جب کسی ایسے جہاز کا عملہ یا کپتان آپ کو کال کرتا ہے جس پر ابھی حملہ ہوا ہو۔

انہوں نے بتایا کہ کبھی کسی جہاز پر میزائل یا ڈرون سے حملہ کیا جاتا ہے تو کبھی انجن روم یا برج پر چھوٹے ہتھیاروں سے فائرنگ کی جاتی ہے، جو وہاں موجود لوگوں کے لیے انتہائی خوفناک تجربہ ہوتا ہے۔

مرکز کے اندر کا منظر کسی عام دفتر جیسا ہے لیکن وہاں لگی بڑی اسکرینیں ڈیجیٹل نقشوں کے ذریعے جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھتی ہیں۔

جب کوئی جہاز سیٹلائٹ فون یا ای میل کے ذریعے کسی مسئلے کی اطلاع دیتا ہے، تو یہ مرکز فوری طور پر مقامی کوسٹ گارڈ یا فوجی حکام کو مطلع کرتا ہے جو مدد کے لیے سب سے بہتر پوزیشن میں ہوں۔

کمانڈر بلیک کے مطابق بعض اوقات عملہ سمندر میں گر جاتا ہے اور ہماری اطلاع پر مقامی کوسٹ گارڈ انہیں بچا لیتے ہیں، ایسی صورتحال میں دفتر کا ماحول بہت پرتناؤ لیکن انتہائی منظم ہوتا ہے۔

جنگ سے پہلے آبنائے ہرمز سے روزانہ تقریباً 130 جہاز گزرتے تھے، لیکن اب یہ تعداد کم ہو کر صرف 8 سے 10 رہ گئی ہے۔

اس اہم راستے کی بندش سے عالمی معیشت متاثر ہو رہی ہے اور تقریباً 850 بڑے جہاز خطے میں پھنسے ہوئے ہیں، جن پر 20 ہزار کے قریب ملاح موجود ہیں۔

خطرے کی ایک بڑی وجہ سمندر میں بچھائی گئی بارودی سرنگیں بھی ہیں، جس کے بارے میں کمانڈر بلیک کہتی ہیں کہ اگرچہ ابھی تک کسی جہاز نے براہِ راست ان سرنگوں کو دیکھنے کی اطلاع نہیں دی، لیکن ان کا محض خدشہ ہی انڈسٹری کو محتاط رکھنے کے لیے کافی ہے۔

برطانوی بحریہ سے منسلک ہونے کے باوجود یہ ادارہ اپنی غیر جانبداری پر فخر کرتا ہے اور ہر ملک کے جہاز کو بلا امتیاز مدد فراہم کرتا ہے۔

یہاں 18 افراد کی ٹیم 24 گھنٹے کام کرتی ہے جو درست اور حقائق پر مبنی معلومات فراہم کر کے شپنگ کمپنیوں کا اعتماد حاصل کر چکی ہے۔

کمانڈر جوانا بلیک نے حالیہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کے بعد حملوں میں کمی آئی ہے لیکن اب جہازوں کو ریڈیو پر روکنے، ان پر سوار ہونے اور ملاحوں کو حراست میں لینے جیسے واقعات زیادہ پیش آ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس مرکز کے ساتھ تعاون رضاکارانہ ہے، لیکن یہاں اپنی معلومات درج کرانے سے شپنگ کمپنیوں کو انشورنس کے اخراجات میں کمی لانے میں مدد ملتی ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles