آپ اکیلے کمرے میں بھی محفوظ نہیں: صارفین کی جاسوسی کرنے پر نیٹ فلکس کے خلاف مقدمہ

امریکا کی ریاست ٹیکساس نے مشہور فلمی اسٹریمنگ سروس ”نیٹ فلکس“ کے خلاف ایک بڑا مقدمہ دائر کر دیا ہے جس میں کمپنی پر صارفین کی جاسوسی کرنے اور ان کے ڈیٹا کا غلط استعمال کرنے کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

ٹیکساس کے اٹارنی جنرل کین پکسٹن کے دفتر سے دائر کی گئی اس شکایت میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ نیٹ فلکس اپنے صارفین، بالخصوص بچوں اور خاندانوں کو اسکرین سے چپکائے رکھنے کے لیے ایسی خفیہ تکنیکیں استعمال کرتا ہے جنہیں عام زبان میں ”ڈارک پیٹرنز“ کہا جاتا ہے۔

ان خفیہ طریقوں کا مقصد صارفین کو ایپ کا عادی بنانا ہے تاکہ وہ مسلسل فلمیں اور ڈرامے دیکھتے رہیں اور اسی دوران کمپنی ان کی نجی معلومات جمع کر کے بھاری منافع کما سکے۔

مقدمے میں سب سے دلچسپ اور چونکا دینے والا جملہ یہ استعمال کیا گیا ہے کہ ’جب آپ نیٹ فلکس دیکھتے ہیں تو نیٹ فلکس دراصل آپ کو دیکھ رہا ہوتا ہے‘۔

س کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کمپنی آپ کے کمرے میں موجود کیمرے سے آپ کی ویڈیو بنا رہی ہے، بلکہ اس سے مراد صارف کے رویے کی مکمل نگرانی ہے۔ نیٹ فلکس یہ نوٹ کرتا ہے کہ آپ نے فلم کب روکی، کون سا حصہ دوبارہ دیکھا، کتنی دیر تک ایپ استعمال کی اور آپ کی پسند ناپسند کیا ہے۔ اس تمام ڈیٹا کی بنیاد پر ہر صارف کے لیے ایک علیحدہ پروفائل تیار کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے ہر انسان کو اپنی ایپ کی ہوم اسکرین پر مختلف فلمیں نظر آتی ہیں۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق نیٹ فلکس ایسی ترغیبات استعمال کرتا ہے جو صارف کو اسکرین سے ہٹنے نہیں دیتیں اور اس عمل میں صارفین کی رضامندی کے بغیر ان کا ڈیٹا اکٹھا کیا جاتا ہے۔

ڈارک پیٹرنز دراصل ٹیکنالوجی کی دنیا میں ان چھپے ہوئے ڈیزائنوں کو کہا جاتا ہے جو صارفین کو ایسے فیصلے کرنے پر مجبور کرتے ہیں جن سے کمپنی کو مالی فائدہ ہو۔ مثال کے طور پر بعض ایپس مختلف فون استعمال کرنے والے افراد کو ایک ہی چیز کی مختلف قیمتیں دکھاتی ہیں تاکہ زیادہ پیسے بٹورے جا سکیں۔

دوسری جانب نیٹ فلکس کے ترجمان نے ان تمام الزامات کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ مقدمہ غلط اور توڑ مروڑ کر پیش کی گئی معلومات پر مبنی ہے اور اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔

ترجمان نے واضح کیا کہ نیٹ فلکس اپنے ممبران کی پرائیویسی کا بہت خیال رکھتا ہے اور ان تمام ممالک کے قوانین کی پاسداری کرتا ہے جہاں وہ اپنی خدمات فراہم کر رہا ہے۔

اب یہ فیصلہ عدالت میں ہوگا کہ کیا نیٹ فلکس واقعی قانونی حدود سے تجاوز کر کے صارفین کے ڈیٹا سے فائدہ اٹھا رہا ہے یا یہ صرف اس کی سروس کو بہتر بنانے کا ایک طریقہ ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles