پاکستان میں ایرانی جنگی طیاروں کی موجودگی کا دعویٰ: دفترِ خارجہ نے رپورٹ مسترد کر دی


پاکستان نے امریکی نشریاتی ادارے ’سی بی ایس نیوز‘ کی اس رپورٹ کو قطعی طور پر مسترد کر دیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ تنازع کے دوران پاکستان نے ایرانی فوجی طیاروں کو اپنے ایک اہم فضائی اڈے کے استعمال کی اجازت دی تھی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے اس رپورٹ پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے اسے گمراہ کن اور سنسنی خیز قرار دیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی کا کہنا ہے کہ اس طرح کے قیاس آرائیوں پر مبنی بیانیے کا مقصد خطے میں امن اور استحکام کے لیے جاری کوششوں کو نقصان پہنچانا معلوم ہوتا ہے۔
پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ اس بحران میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک سفارتی ثالث کے طور پر اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔

سی بی ایس نیوز نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ اپریل کے اوائل میں جنگ بندی کے اعلان کے فوراً بعد ایران نے اپنے کئی فوجی اثاثے اور طیارے راولپنڈی میں واقع پاک فضائیہ کے نور خان ایئربیس پر منتقل کر دیے تھے۔ ان طیاروں میں مبینہ طور پر ایک ایرانی جاسوس طیارہ آر سی 130 بھی شامل تھا۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ ان طیاروں کی منتقلی کا مقصد ممکنہ امریکی حملوں سے بچنا تھا۔
دفتر خارجہ نے رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کے بعد اور اسلام آباد مذاکرات کے پہلے دور کے دوران، ایران اور امریکا کے متعدد طیارے سفارتی عملے، سیکیورٹی ٹیموں اور انتظامی عملے کی نقل و حرکت میں سہولت فراہم کرنے کے لیے پاکستان آئے تھے۔ مذاکرات کے اگلے ادوار کی توقع میں ان میں سے کچھ طیارے اور معاون عملہ عارضی طور پر پاکستان میں ہی ٹھہرا رہا۔
بیان میں کہا گیا کہ اگرچہ باقاعدہ مذاکرات کا ابھی دوبارہ آغاز نہیں ہوا، تاہم اعلیٰ سطح کے سفارتی رابطے مسلسل جاری ہیں۔ اسی تناظر میں، ایرانی وزیر خارجہ کے دورہ اسلام آباد کے لیے موجودہ لاجسٹک اور انتظامی انتظامات کے ذریعے سہولت فراہم کی گئی۔
دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ اس وقت پاکستان میں کھڑے ایرانی طیارے جنگ بندی کے دورانیے میں یہاں پہنچے تھے اور ان کا کسی بھی قسم کی فوجی حکمت عملی یا جنگی اثاثوں کو بچانے کے انتظامات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس کے برعکس کیے جانے والے تمام دعوے محض قیاس آرائیاں، گمراہ کن اور حقائق سے مکمل طور پر عاری ہیں۔
اس رپورٹ پر ردِعمل دیتے ہوئے امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ اگر یہ رپورٹ درست ہے تو ایران اور امریکا کے درمیان ثالث کے طور پر پاکستان کے کردار کا مکمل ازسرِنو جائزہ لینا ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی دفاعی حکام کے ماضی کے بیانات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے انہیں اس خبر پر کوئی حیرت نہیں ہوگی۔

دوسری جانب ایک اعلیٰ پاکستانی عہدیدار نے سی بی ایس نیوز سے بات کرتے ہوئے ان الزامات کی سختی سے تردید کی اور کہا نور خان ایئربیس ایک گنجان آباد شہری علاقے میں واقع ہے، اس لیے وہاں کسی بھی قسم کی غیر معمولی سرگرمی کو چھپانا ناممکن ہے۔
سی بی ایس نیوز کے مطابق، اسی طرح کی رپورٹ افغانستان سے متعلق بھی سامنے آئی تھی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران نے اپنے شہری طیارے کابل منتقل کیے ہیں۔
تاہم طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ان خبروں کو خارج از امکان قرار دیتے ہوئے کہا کہ تہران کو اپنے طیارے افغانستان منتقل کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
افغان شہری ہوا بازی کے ایک عہدیدار کے مطابق، ایک ایرانی طیارہ کابل میں اترا ضرور تھا لیکن بعد میں اسے ایرانی سرحد کے قریب ہرات ایئرپورٹ منتقل کر دیا گیا تھا۔
یہ تمام صورتحال اس وقت سامنے آئی ہے جب پاکستان، امریکا اور ایران کے درمیان تعلقات میں توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔
چین، جو کہ ایران کا اہم بین الاقوامی اتحادی اور پاکستان کو ہتھیار فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے، اس بحران میں پاکستان کے ثالثی کے کردار کی تعریف کر چکا ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles