
خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں پولیس چوکی پر ہونے والے ہولناک دہشت گرد حملے کے بعد پاکستان نے سخت سفارتی ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ دفتر خارجہ نے اسلام آباد میں تعینات افغان ناظم الامور کو طلب کر کے ایک احتجاجی مراسلہ ان کے حوالے کیا ہے۔
پاکستان کی جانب سے بنوں حملے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے افغان حکام کو باور کرایا گیا ہے کہ اس حملے کے تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں اور افغان سرزمین کا دہشت گردی کے لیے استعمال اب کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے اس موقع پر دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ ہم اپنی قومی سلامتی اور عوام کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔
بنوں میں ہفتے کو رات گئے دہشت گردوں نے پولیس چوکی فتح خیل کو نشانہ بنایا۔ حملہ آوروں نے بارود سے بھری ایک گاڑی چوکی سے ٹکرا دی، جس کے نتیجے میں زوردار دھماکا ہوا اور پولیس چوکی کی عمارت مکمل طور پر زمین بوس ہوگئی۔ اس حملے میں 15 پولیس اہلکار شہید جبکہ 3 زخمی ہوئے۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ حملہ اس قدر شدید تھا کہ دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی۔
پاکستانی دفتر خارجہ نے افغان ناظم الامور پر زور دیا ہے کہ افغانستان اپنی حدود میں موجود دہشت گرد تنظیموں کے خلاف فوری اور موثر کارروائی کرے۔
دفتر خارجہ نے افغان ناظم الامور کو واضح کیا کہ پاکستان اپنی سرزمین پر ہونے والی دہشت گردی کے خلاف خاموش نہیں رہے گا اور ہم دہشت گردوں کو ان کی کمین گاہوں میں فیصلہ کن جواب دینے کا پورا حق رکھتے ہیں۔
پاکستان کا موقف ہے کہ خطے میں امن کے لیے ضروری ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دے اور ان گروہوں کی سرکوبی کرے جو سرحد پار کارروائیوں میں ملوث ہیں۔