فٹ بال ورلڈ کپ 2026 سے قبل 5 بڑی باتیں جو آپ کے لیے جاننا ضروری ہیں

فٹ بال ورلڈ کپ 2026 کے آغاز میں اب صرف ایک ماہ باقی رہ گیا ہے اور جیسے جیسے وقت قریب آ رہا ہے دنیا بھر میں اس بڑے ایونٹ کے حوالے سے جوش و خروش میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

اس بار ورلڈ کپ امریکا، میکسیکو اور کینیڈا میں منعقد ہوگا۔ ٹورنامنٹ شروع ہونے سے پہلے ہی کئی معاملات خبروں کی زینت بن چکے ہیں جن میں ٹکٹوں کی قیمتیں، سیکیورٹی خدشات، ایران کی شرکت، نئی ٹیموں کی آمد اور بڑے کھلاڑیوں کی فٹنس شامل ہیں۔

افتتاحی میچ 11 جون کو میکسیکو اور جنوبی افریقہ کے درمیان ایک بڑے ایونٹ سے باقاعدہ طور پر شروع ہو جائے گا، اور اس سے پہلے دنیا بھر میں اس کے حوالے سے بحث مزید تیز ہوتی جا رہی ہے۔

1۔ ٹکٹوں کی قیمتیں شائقین کے لیے بڑا مسئلہ

اس بار ورلڈ کپ کے ٹکٹوں کی قیمتیں غیر معمولی حد تک بڑھ چکی ہیں جس پر شائقین کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ امریکا کے ابتدائی میچز کے ٹکٹ ہزاروں ڈالر میں فروخت ہو رہے ہیں جبکہ فائنل کے بعض ٹکٹوں کی قیمت 30 ہزار ڈالر سے بھی زیادہ بتائی جا رہی ہے۔ دوبارہ فروخت ہونے والے ٹکٹوں کی قیمتیں اس سے کہیں زیادہ ہیں۔

فیفا کا کہنا ہے کہ اس نے کم قیمت ٹکٹ بھی فراہم کیے تھے، تاہم سفر، ہوٹل اور دیگر اخراجات ملا کر ورلڈ کپ دیکھنا بہت سے لوگوں کے لیے مشکل بنتا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق جیسے جیسے ٹورنامنٹ قریب آئے گا، قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

2۔ ایران کی شرکت پر غیر یقینی صورت حال

ایران اور امریکا کے درمیان سیاسی کشیدگی کے باعث ایک وقت پر یہ سوال اٹھ رہا تھا کہ آیا ایرانی ٹیم ورلڈ کپ میں شرکت کر سکے گی یا نہیں۔ بعض امریکی بیانات کے بعد ایرانی حکام نے اپنے میچز میکسیکو منتقل کرنے کی تجویز پر بھی غور کیا تھا۔

کچھ حلقوں میں یہ باتیں بھی سامنے آئیں کہ اگر ایران شرکت نہ کر سکا تو اس کی جگہ کسی دوسری ٹیم کو شامل کیا جا سکتا ہے۔ تاہم اب اطلاعات ہیں کہ ایران کی ٹیم ورلڈ کپ میں شرکت کی تیاری کر رہی ہے اور اپنے تمام میچز شیڈول کے مطابق کھیلے گی۔

3۔ سیکیورٹی اور سفری خدشات میں اضافہ

ورلڈ کپ 2026 کے دوران سیکیورٹی صورتِ حال بھی اہم موضوع بنی ہوئی ہے۔ امریکا میں امیگریشن کارروائیوں اور بعض ممالک پر سفری پابندیوں کے باعث کئی شائقین نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اگرچہ کھلاڑیوں اور آفیشلز کو اجازت دی جائے گی، لیکن عام شہریوں کے لیے مشکلات برقرار رہ سکتی ہیں۔

دوسری جانب میکسیکو میں بھی بعض شہروں کی سیکیورٹی صورتِ حال زیر بحث ہے۔ خاص طور پر گواڈالاہارا میں جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف کارروائیوں کے بعد حالات کشیدہ رہے ہیں۔ اسی وجہ سے منتظمین پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ شائقین کو محفوظ ماحول فراہم کریں۔

4۔ چار نئی ٹیمیں پہلی بار ورلڈ کپ میں شامل

اس بار ورلڈ کپ میں 48 ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں جس کے باعث کئی نئی ٹیموں کو پہلی مرتبہ موقع ملا ہے۔ اردن، ازبکستان، کیپ ورڈے اور کیوراساؤ پہلی بار ورلڈ کپ کھیلیں گے۔

اردن کا مقابلہ ارجنٹینا سے ہوگا جبکہ ازبکستان پرتگال کے خلاف میدان میں اترے گا۔ کیوراساؤ کو جرمنی جیسے مضبوط حریف کا سامنا کرنا پڑے گا۔ چھوٹے ممالک کے لیے یہ ایک تاریخی موقع تصور کیا جا رہا ہے اور شائقین ان ٹیموں کی کارکردگی دیکھنے کے لیے بے چین ہیں۔

5۔ میسی اور رونالڈو پر سب کی نظریں

ورلڈ کپ 2026 میں ایک بار پھر فٹ بال کے سپر اسٹارز میدان میں نظر آئیں گے۔ خاص طور پر لیونل میسی اور کرسٹانو رونالڈو کی شرکت شائقین کے لیے سب سے بڑی کشش بن چکی ہے۔ دونوں کھلاڑی اپنے کیریئر کے آخری مرحلے میں ہیں اور ممکن ہے کہ یہ ان کا آخری ورلڈ کپ ہو۔

دوسری جانب کئی کھلاڑی انجریز کا شکار بھی ہیں۔ اسپین کے نوجوان اسٹار لامین یامال کی فٹنس پر سوالات موجود ہیں جبکہ بعض معروف کھلاڑی پہلے ہی ٹورنامنٹ سے باہر ہو چکے ہیں۔ اس کے باوجود فٹ بال شائقین کو امید ہے کہ اس بار بھی ورلڈ کپ میں سنسنی خیز مقابلے دیکھنے کو ملیں گے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles