برطانوی بلدیاتی انتخابات میں لیبر پارٹی کو دھچکا، کیئر اسٹارمر کے استعفے کا مطالبہ زور پکڑ گیا

برطانیہ کے بلدیاتی انتخابات میں وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر کی لیبر پارٹی کو بڑے سیاسی نقصان کا سامنا کرنا پڑا جبکہ ریفارم یو کے نے شمالی انگلینڈ سمیت کئی اہم علاقوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر کے  اپنی پوزیشن مضبوط کر لی۔

برطانوی میڈیا کے مطابق انگلینڈ کی 136 مقامی کونسلوں کی تقریباً 5 ہزار نشستوں، جبکہ اسکاٹ لینڈ اور ویلز کی علاقائی اسمبلیوں کیلئے ہونے والے انتخابات کو 2029 کے عام انتخابات سے قبل عوامی رائے کا اہم امتحان قرار دیا جا رہا ہے۔

ابتدائی نتائج میں لیبر پارٹی کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔ اب تک 60 کونسلوں کے نتائج سامنے آنے تک لیبر پارٹی 338 نشستیں ہار چکی ہے جبکہ اسے صرف 277 نشستوں پر کامیابی ملی ہے۔ پارٹی اب تک صرف 13 کونسلوں کا کنٹرول برقرار رکھ سکی ہے جبکہ 9 کونسلیں اس کے ہاتھ سے نکل چکی ہیں۔

دوسری جانب ریفارم یو کے نے غیر معمولی کامیابی حاصل کرتے ہوئے انگلینڈ بھر میں 501 نشستیں جیت لی ہیں۔ پارٹی نے شمالی انگلینڈ اور مڈلینڈز کے ان علاقوں میں بڑی پیش رفت کی ہے جو ماضی میں لیبر پارٹی کے مضبوط گڑھ سمجھے جاتے تھے۔

ہارٹل پول میں ریفارم یو کے نے تمام 12 نشستوں پر کامیابی حاصل کی، جبکہ ہالٹن میں بھی پارٹی 15 نشستیں جیتنے میں کامیاب رہی۔ ویگن، بولٹن، سالفورڈ اور ٹیمسائیڈ جیسے علاقوں میں بھی ریفارم یو کے نے لیبر پارٹی کو سخت نقصان پہنچایا۔

ٹیمسائیڈ میں لیبر پارٹی تقریباً 50 برس بعد پہلی بار کونسل کا کنٹرول کھو بیٹھی، جہاں ریفارم یو کے نے لیبر کی دفاع کردہ تمام 14 نشستیں جیت لیں۔ اسی طرح ویگن میں، جہاں نصف صدی سے زائد عرصے سے لیبر پارٹی کا کنٹرول تھا، پارٹی اپنی تمام 20 نشستیں ہار گئی۔

سالفورڈ سے لیبر رکن پارلیمنٹ ربیکا لانگ بیلی نے نتائج کو ’’روح شکن‘‘ قرار دیا، جبکہ لیبر رہنما جوناتھن برش نے کھل کر کیئر اسٹارمر سے استعفے کا مطالبہ کر دیا۔

برطانوی سیاست کے معروف تجزیہ کار جان کرٹس نے کہا کہ لیبر پارٹی کیلئے نتائج “توقعات سے بھی زیادہ خراب” ثابت ہوئے ہیں۔

ادھر سابق حکمران کنزرویٹو پارٹی کو بھی شدید نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ پارٹی اب تک 223 نشستیں کھو چکی ہے، جن میں سے زیادہ تر ریفارم یو کے کے امیدواروں نے حاصل کیں۔ تاہم کنزرویٹو پارٹی نے ویسٹ منسٹر کونسل دوبارہ لیبر پارٹی سے واپس لے لی ہے۔

گرین پارٹی نے 50 نئی نشستیں حاصل کرکے اپنی مجموعی تعداد 90 تک پہنچا دی ہے، جبکہ لبرل ڈیموکریٹس نے بھی 28 نشستوں کا اضافہ کیا ہے اور ان کی مجموعی تعداد 313 ہوگئی ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق ابتدائی نتائج اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ برطانیہ کا روایتی دو جماعتی سیاسی نظام تیزی سے کمزور ہو رہا ہے اور ملک ایک کثیر الجماعتی سیاسی نظام کی طرف بڑھ رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ لیبر اور کنزرویٹو دونوں جماعتوں کے ووٹرز بڑی تعداد میں یا تو ریفارم یو کے کی طرف جا رہے ہیں یا پھر ماحولیاتی پالیسیوں کی حامی گرین پارٹی کا رخ کر رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر یہی رجحان برقرار رہا تو یہ گزشتہ ایک صدی میں برطانوی سیاست کی سب سے بڑی تبدیلی ثابت ہو سکتی ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles