
امریکی محکمہ خزانہ نے ایران سے منسلک نیٹ ورکس اور گروہوں کے خلاف نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے عراق کے نائب وزیرِ تیل سمیت متعدد افراد اور کمپنیوں کو نشانہ بنایا ہے۔ واشنگٹن کے مطابق یہ نیٹ ورکس عراق کے تیل کے شعبے کو استعمال کر کے ایران اور اس کے حمایت یافتہ گروہوں کو مالی فائدہ پہنچا رہے تھے۔
قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ نے ایران سے مبینہ تعلقات رکھنے والے نیٹ ورکس کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے عراق کے نائب وزیرِ تیل علی معارج البہادلی کو بھی پابندیوں کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔
امریکی وزارتِ خزانہ کے مطابق علی معارج البہادلی پر الزام ہے کہ انہوں نے ایران کی حکومت اور اس کے حمایت یافتہ گروہوں کے لیے تیل کی آمدن کو منتقل کرنے اور اس کے غلط استعمال میں کردار ادا کیا۔
واشنگٹن نے عراق میں ایران سے منسلک گروہوں کے تین سینئر عہدیداروں اور چار عراقی کمپنیوں پر بھی پابندیاں عائد کی ہیں۔ ان افراد میں مصطفیٰ ہاشم لازم البہادلی، احمد خدیر مکسوس اور محمد عیسیٰ کاظم الشوائلی شامل ہیں۔
امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بیان میں کہا کہ امریکی محکمہ خزانہ اس وقت خاموش نہیں بیٹھے گا جب ایران عراق کے تیل کے وسائل کو استعمال کرتے ہوئے امریکا اور اس کے شراکت داروں کے خلاف سرگرمیوں کے لیے مالی وسائل حاصل کر رہا ہو۔
امریکا کا مؤقف ہے کہ یہ نیٹ ورکس خطے میں ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کی مالی معاونت کرتے ہیں، جب کہ ان اقدامات کا مقصد ان مالی ذرائع کو محدود کرنا ہے۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی 28 فروری سے جاری جنگ اور حالیہ واقعات کے بعد مزید بڑھ گئی ہے۔ اس دوران ایران کو عسکری اور مالی سطح پر بڑے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے، جب کہ خطے میں اس کی سرگرمیوں پر عالمی دباؤ میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
واشنگٹن ایران پر یہ الزام عائد کرتا رہا ہے کہ وہ علاقائی مسلح گروہوں کی حمایت کرتا ہے اور پابندیوں سے بچنے کے لیے غیر رسمی مالی نیٹ ورکس استعمال کرتا ہے۔ اسی تناظر میں عراق میں ایران کے اثر و رسوخ کو بھی امریکا ایک اہم سیکیورٹی اور سیاسی چیلنج کے طور پر دیکھتا ہے، جس کے باعث واشنگٹن ماضی میں بغداد کی حکومتی شخصیات اور اداروں پر بھی متعدد بار پابندیاں عائد کر چکا ہے۔