
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان اور دیگر دوست ممالک کی اپیل پر آبنائے ہرمز میں جاری اپنے فوجی آپریشن پروجیکٹ فریڈم کو عارضی طور پر روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری ایک بیان میں واضح کیا کہ امریکا اور ایران کے درمیان دوطرفہ طور پر اس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ فی الحال اس آپریشن کو روک دیا جائے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ تہران کے ساتھ کسی باضابطہ معاہدے کی گنجائش موجود ہے یا نہیں۔
صدر ٹرمپ کے مطابق ایران کے خلاف امریکی فوج کی حالیہ کامیابیوں کے بعد اب حتمی معاہدے کے لیے بڑی پیش رفت ہوئی ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی باور کرایا کہ جب تک کوئی معاہدہ طے نہیں پا جاتا، آبنائے ہرمز میں امریکی ناکہ بندی سختی سے نافذ العمل رہے گی۔
دوسری جانب اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے اپنے مخصوص جارحانہ انداز میں کہا کہ تہران کو اب سفید جھنڈا لہرا کر ہتھیار ڈال دینے چاہئیں، اگرچہ وہ جانتے ہیں کہ ایران ایسا نہیں کرے گا۔
انہوں نے ایرانی فوج کی صلاحیتوں پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی فوج اب صرف کھلونا ہتھیاروں جیسے حملے کرنے کے قابل رہ گئی ہے اور تہران بظاہر سخت بیانات دے رہا ہے لیکن اندرونی طور پر وہ معاہدہ کرنے کے لیے بے تاب ہے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ”وہ کھیل کھیلتے ہیں، لیکن میں آپ کو بتا دوں کہ وہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔“
انہوں نے مزید خبردار کیا کہ اگر ایران کے پاس ایٹم بم ہوتا تو مشرقِ وسطیٰ اور اسرائیل صفحہ ہستی سے مٹ جاتے اور اس کے بعد یورپ اور امریکا کی باری آتی۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی انکشاف کیا کہ وہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے جنوبی کوریا اور جاپان کے ساتھ معاہدے کر رہے ہیں اور آئندہ ہفتے دورہ چین کے دوران صدر شی جن پنگ سے ملاقات میں بھی مثبت پیش رفت کی امید ہے۔
دوسری جانب ایران نے امریکا کے ہتھیار ڈالنے کے مطالبے کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سوشل میڈیا پر اپنے ردعمل میں دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ہم مسلمان صرف اللہ تعالیٰ کے سامنے سر جھکاتے ہیں اور اللہ کے سوا کوئی دوسرا ہمیں مغلوب یا مجبور نہیں کر سکتا۔
ایرانی صدر نے عراقی وزیر اعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ امریکا کو کہیں کہ طاقت کے استعمال کی دھمکیاں واپس لے کیونکہ اخلاق کے بغیر طاقت کھوکھلی ہوتی ہے۔
مسعود پزشکیان کا مزید کہنا تھا کہ آج کی دنیا میں جو افراتفری، جبر اور لاقانونیت نظر آ رہی ہے، یہ سیاست کو صرف طاقت تک محدود کرنے کا نتیجہ ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان اس وقت ایک طرف مذاکرات کی امید ظاہر کی جا رہی ہے تو دوسری جانب تلخ بیانات اور سمندری ناکہ بندی نے خطے میں تناؤ کو برقرار رکھا ہوا ہے۔