
امریکی خبر رساں ادورں ’واشنگٹن پوسٹ‘، ’اے بی سی نیوز‘ اور اپسوس کے مشترکہ سروے کے مطابق نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے چھ ماہ قبل ریپبلکن پارٹی کو شدید سیاسی مشکلات کا سامنا ہے۔
پول کے مطابق امریکی عوام کی بڑی اکثریت ایران جنگ اور معیشت جیسے کلیدی مسائل پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت سے غیر مطمئن دکھائی دیتی ہے، جبکہ ڈیموکریٹک ووٹرز انتخابات میں حصہ لینے کے لیے زیادہ پرجوش نظر آ رہے ہیں۔
سروے کے مطابق صدر ٹرمپ کی مجموعی مقبولیت 37 فیصد رہ گئی ہے، جبکہ ان کی غیر مقبولیت 62 فیصد تک جا پہنچی ہے جو ان کے دو ادوارِ صدارت میں اب تک کی بلند ترین سطح ہے۔
خاص طور پر ایران کے ساتھ صورتحال سے نمٹنے کے معاملے پر 66 فیصد امریکیوں نے ان کی پالیسیوں کو ناپسند کیا ہے۔
معاشی محاذ پر بھی پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی کی وجہ سے ان کی ریٹنگ میں نمایاں کمی آئی ہے، جہاں صرف 23 فیصد عوام معیارِ زندگی سے متعلق ان کے اقدامات سے خوش ہیں۔
اس سیاسی صورتحال نے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ میں ریپبلکن پارٹی کی برتری کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
موجودہ سروے کے مطابق 71 فیصد عوام صدر ٹرمپ کو دیانتدار اور قابلِ اعتماد نہیں سمجھتے۔
سروے میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ 59 فیصد امریکی صدر ٹرمپ کی ذہنی صلاحیت اور 55 فیصد ان کی جسمانی صحت کو صدارتی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے ناکافی سمجھتے ہیں۔
انتظامیہ کے دیگر اعلیٰ عہدیداروں بشمول نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کو بھی عوامی سطح پر منفی ریٹنگ کا سامنا ہے۔
وزیر دفاع ہیگسیتھ نے حال ہی میں دفاعی بجٹ کو ایک ٹریلین سے بڑھا کر ڈیڑھ ٹریلین ڈالر کرنے کی تجویز پیش کی تھی، جس کی 65 فیصد عوام نے مخالفت کی ہے۔
سروے کے نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے سابق انٹیلی جنس تجزیہ کار ایرک بریور نے نوٹ کیا کہ عوامی رائے میں تبدیلی کی ایک وجہ جنگی حالات اور معاشی دباؤ ہے۔ اگرچہ ریپبلکن پارٹی کے اندر اب بھی 65 فیصد اراکین ٹرمپ کی قیادت کی پیروی کرنا چاہتے ہیں، لیکن آزاد ووٹرز میں ان کی مقبولیت میں کمی پارٹی کے لیے آنے والے انتخابات میں بڑی رکاوٹ بن سکتی ہے۔