امریکا نے آبنائے ہرمز میں ایرانی میزائل حملے کا دعویٰ جھوٹا اور بے بنیاد قرار دے دیا

ایران کی جانب سے امریکی بحری جہاز پر میزائل حملے کے دعوے پر امریکا نے باضابطہ طور پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے من گھڑت اور بے بنیاد قرار دیا ہے۔

قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ اور’سی این این‘ کے مطابق آبنائے ہرمز کے حساس سمندری علاقے میں ایران اور امریکا کے درمیان بیانیہ جنگ شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں ایرانی سرکاری میڈیا کی جانب سے امریکی بحریہ پر میزائل حملے کے دعوے سامنے آئے، وہیں واشنگٹن نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ مکمل طور پر’من گھڑت‘ ہے۔ ایک امریکی اہلکار نے واضح کیا کہ کسی بھی امریکی بحری جہاز کو نشانہ نہیں بنایا گیا اور نہ ہی ایسا کوئی واقعہ پیش آیا۔

اسی تناظر میں امریکی سینٹرل کمانڈ سینٹ کام نے بھی اپنے بیان میں ایرانی دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی امریکی بحری جہاز نشانہ نہیں بنا۔ یہ بیان سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری کیا گیا، جس میں ان خبروں کو بے بنیاد قرار دیا گیا۔

دوسری جانب ایرانی خبر رساں ادارے ارنا نے ایک عسکری بیان کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ ایرانی بحریہ نے بروقت اور سخت وارننگ جاری کرتے ہوئے مبینہ طور پر امریکی اور اسرائیلی جنگی جہازوں کو آبنائے ہرمز میں داخل ہونے سے روک دیا۔ ایرانی مؤقف کے مطابق یہ کارروائی خطے میں اپنی دفاعی حکمت عملی کے تحت کی گئی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں ممالک کے متضاد بیانات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ خطے میں صرف عسکری نہیں بلکہ اطلاعاتی محاذ پر بھی کشیدگی عروج پر ہے۔ آبنائے ہرمز، جو عالمی تیل کی ترسیل کا ایک اہم گزرگاہ ہے، اس میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے دعوے اور ان کی تردید خطے میں غیر یقینی صورتحال کو بڑھا سکتے ہیں اور کسی بھی غلط فہمی کے نتیجے میں بڑے تصادم کا خطرہ بھی موجود رہتا ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles