ایران کی مذاکرات کے لیے 14 نکاتی نئی تجاویز، ایک ماہ میں تمام مسائل حل کرنے پر زور

ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ ایران نے امریکا کی 9 نکاتی تجویز کے جواب میں اپنی شرائط پاکستان کی وساطت سے واشنگٹن تک پہنچا دی ہیں، جس میں جنگ بندی کی مدت بڑھانے کے بجائے مکمل جنگ کے خاتمے پر زور دیا گیا ہے۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایران نے امریکا کی تجاویز کے جواب میں پاکستان کے ذریعے اپنی 14 نکاتی تجویز واشنگٹن کو ارسال کر دی ہیں۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ عارضی جنگ بندی کے بجائے جنگ کا مستقل خاتمہ چاہتا ہے، جس کے لیے امریکا کو ایرانی اثاثوں کی بحالی اور پابندیوں کے خاتمے سمیت سخت شرائط پر عمل کرنا ہوگا۔

رپورٹ کے مطابق امریکا نے اپنی تجویز میں 2 ماہ کی جنگ بندی کی درخواست کی تھی، تاہم ایران نے اس کے برعکس مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام مسائل کو 30 دن کے اندر حل کیا جائے اور جنگ بندی میں توسیع کے بجائے جنگ کے خاتمے پر توجہ دی جائے۔

ایران کی جانب سے پیش کی گئی 14 نکاتی تجویز میں متعدد اہم امور شامل ہیں، جن میں دوبارہ جارحیت نہ کرنے کی ضمانت، ایران کے اطراف سے امریکی افواج کا انخلا، بحری ناکہ بندی کا خاتمہ، ایران کے منجمد اثاثوں کی واپسی، ہرجانے کی ادائیگی، پابندیوں کا خاتمہ اور لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کا مکمل خاتمہ شامل ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق آبنائے ہرمز کے لیے ایک نئے طریقہ کار کی تجویز بھی ایرانی منصوبے کا حصہ ہے اور ایران اس وقت اپنی تجاویز پر امریکا کے باضابطہ ردعمل کا انتظار کر رہا ہے۔

امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے بھی اس خبر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے جمعرات کو امریکا کو 14 نکاتی نظرثانی شدہ تجویز پیش کی ہے۔

اس تجویز سے آگاہ دو ذرائع کے مطابق اس میں ایک ماہ کی مدت مقرر کی گئی ہے جس کے دوران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے، امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے اور ایران و لبنان میں جنگ کے مستقل خاتمے پر معاہدہ کیا جائے گا۔ ایرانی تجویز کے مطابق اس ابتدائی معاہدے کے بعد مزید ایک ماہ کی بات چیت کا آغاز کیا جائے گا تاکہ جوہری پروگرام سے متعلق معاہدے تک پہنچا جا سکے۔

صدر ٹرمپ کو جمعرات کے روز امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے نئے منصوبوں پر بریفنگ دی۔ اس کے بعد کوپر خطے کے دورے پر روانہ ہوئے اور ہفتے کے روز بحیرہ عرب میں موجود امریکی بحری جہاز یو ایس ایس ٹرپولی پر تعینات اہلکاروں سے ملاقات کی۔

جمعے کو صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا کہ وہ ایرانی تجویز سے مطمئن نہیں ہیں، تاہم ہفتے کے روز پام بیچ سے میامی روانگی سے قبل انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ پرواز کے دوران اس کا جائزہ لیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے ابھی تک اپنے اقدامات کی مکمل قیمت ادا نہیں کی اور ضرورت پڑنے پر اس کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران پر دوبارہ حملے خارج از امکان نہیں ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles