ایران کی نئی تجاویز کا جلد جائزہ لوں گا، دوبارہ حملے کے امکانات موجود ہیں، ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے ایک بار پھر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران پر دوبارہ حملوں کے امکانات موجود ہیں، جبکہ انہیں ایران کی جانب سے نئی تجاویز موصول ہو چکی ہیں جن کا جلد جائزہ لیا جائے گا، تاہم ان کے قابل قبول ہونے پر شکوک پائے جاتے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران نے ابھی تک اپنے اقدامات کی مکمل قیمت ادا نہیں کی اور ضرورت پڑنے پر اس کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران پر دوبارہ حملے خارج از امکان نہیں ہیں۔

ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا کی ایران کے ساتھ مذاکرات کی صلاحیت ”لامحدود“ ہے، تاہم کانگریس کے بعض ارکان اس صلاحیت کو محدود کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ایران کی جانب سے ایک ممکنہ معاہدے سے متعلق نئی تجاویز پیش کی گئی ہیں، جن کا وہ جلد جائزہ لیں گے۔

صدر ٹرمپ کے مطابق انہیں جلد ہی ان تجاویز کے اصل متن سے آگاہ کیا جائے گا، تاہم انہوں نے عندیہ دیا کہ یہ بعید ہے کہ ایرانی تجاویز امریکا کے لیے قابل قبول ہوں۔

انہوں نے آبنائے ہرمز میں جاری ناکہ بندی کو ”انتہائی دوستانہ“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام ایران کے خلاف دباؤ بڑھانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ یہ ناکہ بندی امریکا کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے ایرانی قیادت کو غیر واضح اور منقسم قرار دیا اور کہا کہ مختلف بیانات سامنے آ رہے ہیں جس سے یہ سمجھنا مشکل ہو رہا ہے کہ اصل فیصلہ ساز کون ہے۔

دوسری جانب صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ جرمنی سے 5 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکاروں کو واپس بلایا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس سے قبل بھی کہا تھا کہ وہ ایران کی موجودہ صورتحال سے مطمئن نہیں ہیں اور امریکا کسی صورت ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles