اٹلی کی غزہ جانے والے امدادی جہازوں پر اسرائیلی قبضے کی مذمت، فوری رہائی کا مطالبہ

اٹلی نے جنگ زدہ فلسطینی علاقے غزہ کے لیے امداد لے جانے والے بحری جہازوں پر اسرائیل کی جانب سے قبضے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر حراست میں لیے گئے تمام اطالوی شہریوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جمعرات کو اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل غیر قانونی طور پر حراست میں لیے گئے تمام اطالوی شہریوں کو فوری رہا کرے۔

بیان میں اسرائیل پر زور دیا گیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون کا احترام کرے اور ’گلوبل صمود فلوٹیلا‘ میں سوار تمام افراد کی سلامتی کو یقینی بنائے۔

اسرائیل نے بدھ کی رات یونان کے قریب بین الاقوامی سمندری حدود میں غزہ امداد لے جانے والے بحری جہاز اور کشتیوں کے قافلے کو روکا تھا۔ ’گلوبل صمود فلوٹیلا‘ کے منتظمین نے اسرائیلی کارروائی کو محصور فلسطینیوں کے لیے امداد لے جانے والی کشتیوں کے خلاف ’بحری قزاقی‘ قرار دیا ہے۔

اطالوی حکومت نے بیان میں باہمی تعاون کے فریم ورک اور بین الاقوامی قانون کے مطابق غزہ کو انسانی امداد کی فراہمی جاری رکھنے کے اپنے عزم کا بھی اعادہ کیا۔

اگرچہ وزیراعظم جارجیا میلونی کی دائیں بازو کی حکومت کو یورپ میں اسرائیل کے قریبی اتحادیوں میں شمار کیا جاتا ہے، تاہم حالیہ ہفتوں میں اٹلی نے لبنان کے شہری علاقوں اور نہتے عوام پر حملوں کے بعد اسرائیل کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

رواں ماہ اٹلی نے مشرق وسطیٰ کے حالات کی وجہ سے اسرائیل کے ساتھ دفاعی تعاون کا ایک معاہدہ بھی معطل کر دیا تھا۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس اکتوبر میں بھی اسرائیلی فوج نے اسی تنظیم کی جانب سے محصور غزہ پہنچنے کی کوشش کرنے والے ایک ’فلوٹیلا‘ کو روکا تھا، جس میں معروف ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ سمیت ساڑھے چار سو سے زائد شرکاء کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles