نیو کلیئر صلاحیت پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا: ایرانی سپریم لیڈر نے واضح کردیا

ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے واضح کیا ہے کہ نیو کلیئر صلاحیت پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا، امریکا کو جنگ میں شسکت دی گئی ہے اور اس شکست سے خیلج فارس میں نیا باب کھل رہا ہے، ایران میزائل اور اپنی جوہری صلاحیت کا تحفظ کرے گا، ہم اس صلاحیت کو اپنا قومی سرمایہ سمجھتے ہیں، ہم جوہری پروگرام کی اپنی سرزمین کی طرح حفاظت کریں گے۔

ایرانی سرکاری ٹی وی پریس ٹی وی کے مطابق جمعرات کو نیشنل پرشین گلف ڈے کے موقع پر ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ آج خطے میں دنیا کی سب سے بڑی مہم اور جارحیت کے 2 ماہ بعد اور امریکا کی اپنے منصوبے میں شرمناک ناکامی کے بعد خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں ایک نیا باب ابھر رہا ہے۔

مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ اسٹریٹیجک اثاثہ ہرمز صدیوں سے کئی شیطانی طاقتوں کی لالچ کو ابھارتا رہا ہے، خلیج فارس نہ صرف اقوام کے درمیان رابطے کا ذریعہ ہے بلکہ آبنائے ہرمز اور بحیرۂ عمان کے ذریعے عالمی معیشت کے لیے ایک اہم اور منفرد راستہ بھی فراہم کرتی ہے، ہرمز محض ایک آبی گزرگاہ نہیں بلکہ ایک ایسی نعمت ہے جس نے ہماری شناخت اور تہذیب کا حصہ تشکیل دیا ہے۔

ایرانی سپریم لیڈر کا مزید کہنا تھا کہ فروری کے آخر میں شروع ہونے والی امریکا-اسرائیل جنگ کے بعد ایرانی عوام نے اپنی آنکھوں سے ایرانی افواج کی ثابت قدمی، چوکسی اور بہادرانہ جدوجہد کے خوبصورت مظاہرے دیکھے ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ خلیج فارس کا روشن مستقبل امریکا کے بغیر ہوگا ، خطے میں غیر ملکی عناصر کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ خطے کے عوام کی ترقی، سکون اور خوشحالی کے لیے وقف ہوگا۔

مجتبیٰ خامنہ ای نے خطے میں عدمِ تحفظ کا ذمہ دار امریکی فوجی موجودگی کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں اور اس کے بعد کی کارروائیوں نے خطے کو غیر محفوظ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ثابت ہو چکا ہے کہ خلیج فارس کے ممالک میں امریکی موجودگی اور ان کے اڈے خطے میں عدمِ تحفظ کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔ ایرانی سپریم لیڈر نے مزید کہا کہ امریکا کے کٹھ پتلی اڈوں میں خود اپنی سلامتی کی صلاحیت نہیں، تو وہ اپنے حامیوں کو کیا تحفظ فراہم کریں گے۔

مجتبیٰ خامنہ ای  کا کہنا تھا کہ ایران اپنی جوہری اور میزائل صلاحیتوں کا سختی سے دفاع کرے گا، جو امریکی صدر کی جانب سے انہیں ختم کرنے کی خواہش کے ردِعمل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا مزید تھا کہ ایرانی عوام ان صلاحیتوں کو قومی سرمایہ سمجھتے ہیں اور ان کی حفاظت ایسے کریں گے جیسے اپنی پانی، زمین اور فضائی سرحدوں کی کرتے ہیں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles