
ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے کہا ہے کہ ایران نے حجاج کرام کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے سعودی حکام کے ساتھ تمام ضروری اقدامات اور کوآرڈینیشن مکمل کر لی ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات اور امریکی پروپیگنڈے پر توجہ نہ دیں۔
ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی اِرنا کے مطابق منگل کے روز ہفتہ وار پریس برینفنگ کے دوران ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے ملکی اور علاقائی امور سمیت رواں سال فریضۂ حج سے متعلق تیاریوں پر گفتگو کی۔
سعودی عرب میں ایرانی حجاج کی سیکیورٹی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ حکام نے طے شدہ طریقہ کار کے تحت عازمین کو روانہ کرنے کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ صدر مسعود پزشکیان کی قیادت میں حکومت ایرانی شہریوں کے لیے باوقار حج کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔
امریکی ناکہ بندی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ترجمان ایرانی حکومت کو امریکا کی جانب سے ایسے اقدامات کی توقع تھی اور اس سے نمٹنے کے لیے پہلے ہی تمام ضروری حفاظتی اقدامات کر لیے گئے تھے۔
انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کی بنیادی حکمت عملی ملک کے اسٹریٹجک محلِ وقوع کا زیادہ سے زیادہ استعمال اور اچھا ہمسایہ بنے رہنے کی پالیسی کو فروغ دینا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کیے جانے والے بعض دعوؤں پر ردعمل دیتے ہوئے فاطمہ مہاجرانی نے کہا کہ ایرانی عوام کو دشمن کی بیان بازی اور غیر مصدقہ خبروں پر کان نہیں دھرنے چاہئیں۔ ان دعوؤں کا واحد مقصد عوام میں تقسیم پیدا کرنا اور رائے عامہ کا رخ موڑنا ہے۔
انہوں نے قومی اتحاد اور ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ ’مسلط کردہ جنگ‘ کا مقصد ہی ملک کے داخلی ماحول کو خراب کرنا ہے۔ تاہم قیادت، دفاعی افواج اور معاشرے کے مختلف طبقات کے درمیان موجود ہم آہنگی دشمن کے مقاصد کو ناکام بنا رہی ہے۔