امریکا ایران مذاکرات تعطل کا شکار، خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ

امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات تعطل کا شکار ہیں جبکہ اس دوران عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

بینچ مارک برینٹ خام تیل 2 فیصد سے زائد اضافے کے بعد 107.97 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا، جو گزشتہ تین ہفتوں کی بلند ترین سطح ہے۔

ماہرین کے مطابق تیل کی قیمتوں میں اس اضافے سے مہنگائی کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں، جس کے نتیجے میں شرح سود میں کمی کی توقعات تقریباً ختم ہو چکی ہیں۔

دوسری جانب امریکی اسٹاک مارکیٹ کے فیوچرز میں بھی کمی دیکھی گئی، جہاں ایس اینڈ پی 500 فیوچرز 0.3 فیصد نیچے آ گئے، حالانکہ جمعہ کے روز کیش مارکیٹ ریکارڈ سطح پر بند ہوئی تھی۔ اس دوران سرمایہ کاروں کی بڑی توجہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے وابستہ کمپنیوں پر رہی۔

خطے میں حالیہ کشیدگی اس وقت بڑھی جب امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد صورتحال سنگین ہو گئی۔ اگرچہ بعد ازاں عارضی جنگ بندی کے باعث لڑائی محدود ہو گئی، تاہم آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش اب بھی عالمی توانائی سپلائی کے لیے ایک بڑا خطرہ سمجھی جا رہی ہے۔

ادھر شمال مشرقی ایشیا کے لیے جون میں ایل این جی کی اوسط قیمت 16.70 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو تک پہنچ گئی، جو جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں تقریباً 61 فیصد زیادہ ہے۔

بین الاقوامی مالیاتی ادارے گولڈ سانچ نے برینٹ خام تیل کی سال کے اختتام تک قیمت کی پیش گوئی 80 ڈالر سے بڑھا کر 90 ڈالر فی بیرل کر دی ہے، تاہم اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ خلیجی ممالک سے تیل کی برآمدات جون کے اختتام تک معمول پر آ جائیں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles