
روس کے شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکراتی عمل سے متعلق اہم پیش رفت کا عندیہ دیا ہے، جہاں انہوں نے اپنے دورۂ پاکستان کے حوالے سے بھی گفتگو کی۔
عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ پاکستان نے حالیہ عرصے میں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں ثالثی کا اہم کردار ادا کیا ہے، اور اسی تناظر میں تازہ پیش رفت پر بات چیت ضروری تھی۔
انہوں نے بتایا کہ مجموعی طور پر مذاکراتی عمل میں کچھ پیش رفت ضرور ہوئی ہے، تاہم امریکا کے غلط طرزِ عمل اور حد سے زیادہ مطالبات کے باعث گزشتہ دور اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ماضی میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور اس بات پر بھی غور کیا گیا کہ مذاکرات کو کس طرح اور کن شرائط کے تحت آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب ایران نے امریکا کو ایک نئی سفارتی تجویز پیش کی ہے جس کا مقصد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور جاری جنگ کا خاتمہ کرنا ہے، تاہم اس فارمولے کے تحت جوہری مذاکرات کو فی الحال مؤخر کرنے کی بات کی گئی ہے۔
امریکی نیوز ویب سائٹ ’ایگزیوس‘ نے ایک امریکی اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ اس تجویز کا مقصد سفارتی تعطل کو ختم کرنا ہے کیونکہ ایرانی قیادت اس وقت اس حوالے سے منقسم ہے کہ جوہری پروگرام پر امریکا کو کیا رعایتیں دی جائیں۔
ایرانی تجویز کے مطابق اگر اس وقت جوہری معاملے کو مذاکرات سے الگ کر دیا جائے تو ایک تیز رفتار معاہدہ ممکن ہو سکتا ہے، لیکن دوسری جانب مبصرین کا خیال ہے کہ ناکہ بندی ختم کرنے سے صدر ٹرمپ کا وہ دباؤ کم ہو جائے گا جو وہ ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو ختم کروانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔