ایران ہمیشہ مذاکرات اور معاہدے کا خیر مقدم کرتا ہے: ایرانی صدر

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران ہمیشہ مذاکرات اور معاہدے کا خیرمقدم کرتا ہے تاہم عدم اعتماد، محاصرہ اور دھمکیاں حقیقی مذاکرات کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔

بدھ کے روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے ہمیشہ بات چیت اور معاہدوں کا خیرمقدم کیا ہے اور آئندہ بھی مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہ موجودہ صورت حال میں سنجیدہ پیش رفت اس وقت تک ممکن نہیں جب تک بداعتمادی، پابندیوں اور دباؤ کی پالیسیوں کا خاتمہ نہیں کیا جاتا۔

ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ محاصرہ، دھمکیاں اور یکطرفہ اقدامات ایسے عوامل ہیں جو کسی بھی حقیقی اور بامعنی مذاکراتی عمل کو متاثر کرتے ہیں۔

مسعود پزشکیان نے مزید کہا کہ کہ عالمی برادری ان بیانات اور عملی اقدامات کے درمیان تضاد کو دیکھ رہی ہے، جس سے مذاکراتی عمل پر اعتماد متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سنجیدہ اور نتیجہ خیز مذاکرات کے لیے باہمی احترام اور عملی اقدامات ضروری ہیں۔

ناکہ بندی ختم ہونے تک آبنائے ہرمز نہیں کھل سکتی: ایران

دوسری طرف ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ جب تک ناکہ بندی ختم نہیں ہوتی اور سیزفائر کی خلاف ورزیاں جاری رہتی ہیں، اس وقت تک آبنائے ہرمز کو کھولنا ممکن نہیں۔ انہوں نے عالمی معیشت کو یرغمال بنانے اور صیہونی حملوں کے خاتمے پر بھی زور دیا۔

بدھ کے روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ سیزفائر اس وقت ہی مؤثر اور قابلِ عمل ہو سکتا ہے جب اس کی خلاف ورزی نہ ہو اور کسی بھی قسم کی ناکہ بندی کا خاتمہ کیا جائے۔

باقر قالیباف نے کہا کہ جب تک دنیا کی معیشت کو یرغمال بنایا جاتا رہے گا، خطے میں استحکام ممکن نہیں ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنگی جنون میں مبتلا صیہونی عناصر کے حملے بند ہونا ضروری ہیں، بصورت دیگر صورت حال مزید کشیدہ ہو سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان حالات میں آبنائے ہرمز کو کھولنا ناممکن ہے کیوں کہ یہ صورت حال سیزفائر کی کھلی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔

ایرانی اسپیکر کے مطابق جنگ کے ذریعے مطلوبہ مقاصد حاصل نہیں کیے جا سکے اور نہ ہی دباؤ اور دھمکیوں سے کوئی نتائج برآمد ہوں گے۔

قالیباف نے ایرانی قیادت زور دیا کہ ایرانی عوام کے حقوق کو تسلیم کرنا ہی مسائل کے حل کا واحد راستہ ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان جو اس تنازع میں ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، اب بھی دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسلام آباد میں مجوزہ مذاکرات کے لیے تیاریاں مکمل تھیں، تاہم ایران اور امریکا کے وفود کی عدم شرکت کے باعث بات چیت نہ ہو سکی۔ پاکستانی حکام کے مطابق کوششیں جاری ہیں اور مستقبل میں مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کا امکان موجود ہے۔

ادھر دونوں ممالک کے درمیان اہم معاملات، جن میں جنگ بندی، بحری ناکا بندی، جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول شامل ہیں، بدستور حل طلب ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ان اختلافات کے باعث خطے میں کشیدگی برقرار ہے جب کہ عالمی توانائی کی ترسیل بھی متاثر ہو رہی ہے کیونکہ دنیا کا بڑا حصہ تیل اور گیس اسی گزرگاہ سے گزرتا ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles