
امریکی صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع نہیں چاہتے اور جلد ایک معاہدے کی امید رکھتے ہیں، جب کہ بات چیت اور کشیدگی دونوں امکانات زیر غور ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ نے سی این بی سی کو انٹرویو میں کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جاری جنگ بندی کو آگے نہیں بڑھانا چاہتے۔ ان کے مطابق امریکا اس وقت مضبوط مذاکراتی پوزیشن میں ہے اور توقع ہے کہ ایک بڑا معاہدہ سامنے آئے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ نے سی این بی سی کو انٹرویو میں کہا ہے کہ امریکا ایران کے ساتھ جاری جنگ بندی میں توسیع نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق امریکا اس وقت مضبوط مذاکراتی پوزیشن میں ہے اور امکان ہے کہ جلد ایک بڑا معاہدہ طے پا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ امید ہے ایران کے ساتھ اچھا معاہدہ ہوگا کیونکہ ان کے پاس اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔ ٹرمپ کے مطابق امریکا نے ایران کی نیوی، فضائیہ اور کئی رہنماؤں کو نشانہ بنایا ہے، جس کے باعث صورتِ حال تبدیل ہوئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات کسی حد تک حکومت کی تبدیلی کے اثرات بھی رکھتے ہیں، اگرچہ یہ ان کا ابتدائی مقصد نہیں تھا۔ امریکی صدر نے کہا کہ ایران سے اس وقت تک محاصرہ ختم نہیں کیا جائے گا جب تک حتمی معاہدہ نہیں ہو جاتا۔ ان کے مطابق ایران کو بات چیت کرنا ہوگی اور معاہدہ کر کے وہ اپنی پوزیشن بہتر بنا سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے امریکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امید ہے کہ ایران سے اچھا معاہدہ ہوجائے گا، کیوں کہ اس کے علاوہ ایران کے پاس کوئی چارہ نہیں، انھوں نے کہا کہ ایران سے جب تک فائنل ڈیل نہ ہوجائے محاصرہ ختم نہیں کریں گے، سیز فائر میں توسیع نہیں ہوگی۔
ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکا نے بڑی تعداد میں ایرانی بحری اثاثے اور ریڈار سسٹمز تباہ کیے ہیں، جب کہ ایک ایرانی جہاز کی ضبطی کے دوران غیر معمولی صورتِ حال بھی سامنے آئی۔ مجھے نہیں معلوم ہو سکتا ہے شاید یہ چین کا تحفہ ہو۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ مجھے بڑی حیریت ہوئی لیکن جنگ میں شاید ایسا ہوتا ہے، ہم نے ان کے 159 جہاز تباہ کر دیے، ایران کا سب کچھ ختم ہو گیا ہے۔ تاہم امریکی صدر نے زور دیا کہ موجودہ حالات میں فوری فیصلے ضروری ہیں اور فریقین کو آگے بڑھ کر مذاکرات کے ذریعے حل نکالنا چاہیے۔
تاہم صدر ٹرمپ نے خبردار بھی کیا کہ اگر جلد معاہدہ نہ ہوا تو امریکا ایران کے خلاف دوبارہ کارروائی شروع کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق امریکی فوج اس کے لیے تیار ہے اور وہ اس معاملے میں سخت مؤقف رکھتے ہیں۔