اسرائیلی فوج نے لبنان کے زیرِ قبضہ علاقوں پر کنٹرول کا نقشہ جاری کردیا

اسرائیلی فوج نے لبنان میں زبردستی خالی کرائے گئے درجنوں سرحدی دیہاتوں کا نقشہ جاری کرتے ہوئے انہیں نام نہاد ’بفرزون‘ قرار دیا ہے۔ یہ اقدام حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے چند روز بعد سامنے آیا ہے۔ اسرائیلی وزیرِ دفاع نے سرحد پر موجود عمارتیں اور سڑکیں تباہ کرنے کی بھی دھمکی دی ہے۔

اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری کردہ نقشے میں مشرق سے مغرب تک پھیلی ہوئی تعیناتی لائن لبنانی علاقوں کے اندر سرحد سے 5 سے 10 کلومیٹر تک پھیلی ہوئی ہے۔ اسرائیل نے اس نام نہاد بفرزون کے قیام کی وجہ لبنان میں غیر قانونی طور پر موجود اپنے فوجیوں اور سرحدی علاقوں کی حفاظت کو قرار دیا ہے۔

اسرائیلی فوج نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس کے پانچ ڈویژنز اور بحری فورسز جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

اسرائیل اس سے قبل غزہ اور شام میں بھی نام نہاد بفر زونز قائم کرکے قابض ہے۔ جنوبی لبنان کے ایک بڑے حصے زبردستی خالی کرانے اور دیہاتوں کی تباہی پر وضاحت دیتے ہوئے اسرائیلی فوج نے کہا کہ کئی سرحدی علاقوں میں عمارتوں اور انفراسٹرکچر کو اس لیے پر تباہ کیا گیا کیوں کہ وہ حزب اللہ کے زیر استعمال تھیں۔

رپورٹس کے مطابق اسرائیل اور لبنان کے درمیان جمعرات کو امریکہ کی ثالثی میں جنگ بندی طے پائی تھی، جس کے بعد 14 اپریل کو دونوں ممالک کے درمیان کئی دہائیوں بعد پہلی براہِ راست بات چیت بھی ہوئی۔

لبنانی حکام کے مطابق جنگ بندی شہری اب ان دیہاتوں میں واپسی کی کوششیں کر رہے ہیں لیکن اسرائیلی فورسز انہیں زیادہ تر جنوبی علاقوں میں جانے سے روک رہی ہیں۔ لبنانی حکام نے ان علاقوں کی طرف واپس جانے والے شہریوں کو اسرائیلی حملوں کے پیش نظر احتیاط کا مشورہ دیا ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے اتوار کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ سرحد پر موجود آبادی سمیت ہمارے فوجیوں کے لیے خطرہ بننے والے کسی بھی ڈھانچے یا شک کی بنیاد پر کسی بھی سڑک کو فوری طور پر تباہ کر دیا جانا چاہیے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles