
فٹبال کی عالمی تنظیم ’فیفا‘ نے ایران کی ٹیم کو ورلڈکپ کے لیے امریکا آنے کی صورت میں مکمل سیکیورٹی فراہم کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔ فیفا نے ایران کی ورلڈکپ کے میچز امریکا سے میکسیکو منتقل کرنے کی درخواست بھی مسترد کر دی ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے اثرات کھیلوں کے سب سے بڑے ایونٹ ’فیفا ورلڈ کپ‘ تک پہنچ گئے ہیں۔
فیفا کے صدر گیانی انفینٹینو نے امریکی نشریاتی ادارے ’سی این بی سی‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام سیاسی اور سکیورٹی خدشات کے باوجود ایران کے میچز امریکا میں ہی ہوں گے۔
واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے باعث ایران کے وزیرِ کھیل نے امریکا میں کھیلنے سے معذرت کی تھی، جب کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایرانی کھلاڑیوں کی سلامتی کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔
اس صورتِ حال کے پیشِ نظر ایرانی حکام نے مطالبہ کیا تھا کہ ان کے میچز امریکا کے بجائے ورلڈ کپ کے دوسرے شریک میزبان ملک ’میکسیکو‘ میں کروائے جائیں۔ تاہم فیفا نے اس مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے ایرانی کھلاڑیوں اور عملے کو مکمل سیکیورٹی کی یقین دہانی کروائی ہے۔
فیفا کے صدر گیانی انفینٹینو نے کہا کہ حال ہی میں وہ ترکیہ کے شہر انطالیہ میں ایرانی ٹیم کے ٹریننگ کیمپ میں گئے تھے، جہاں کھلاڑیوں نے ان سے ورلڈ کپ میں شرکت کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ کھیل کو سیاست سے الگ رکھنا چاہیے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ایرانی ٹیم نے کوالیفائی کیا ہے، کھلاڑی ورلڈ کپ کھیلنا چاہتے اور وہ اپنے عوام کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ اس لیے ایرانی ٹیم کو امریکا آنا ہی ہوگا‘۔
گیانی انفینٹینو نے پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کا حوالہ دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ٹورنامنٹ شروع ہونے تک خطے کے حالات مکمل طور پر پُرامن ہو جائیں گے۔
یاد رہے کہ ایران ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرنے والی ابتدائی ٹیموں میں شامل ہے۔ شیڈول کے مطابق ایرانی ٹیم کے گروپ اسٹیج کے تمام میچز امریکا کے مغربی ساحل پر کھیلے جائیں گے۔
ایران کا پہلا میچ 15 جون کو نیوزی لینڈ اور 21 جون کو بیلجیئم کے خلاف لاس اینجلس میں شیڈول ہے جب کہ 26 جون کو اس کا مقابلہ مصر سے سیاٹل میں طے ہے۔ اگر ایرانی ٹیم ناک آؤٹ مرحلے کے لیے کوالیفائی کرتی ہے، تو اس صورت میں بھی بقیہ تمام میچز امریکا ہی میں کھیلے جائیں گے۔