
آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث فضائی حدود کی بندش اور سپلائی چین میں رکاوٹوں نے یورپی ایوی ایشن انڈسٹری کو دباؤ میں ڈال دیا ہے، اس صورت حال کے پیش نظر یورپی ایئرلائنز نے یورپی یونین سے فوری ہنگامی اقدامات اور پالیسی ریلیف کا مطالبہ کیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یورپی ایئرلائنز کے نمائندہ گروپ ایئرلائنز فار یورپ نے ایک دستاویز میں یورپی یونین پر زور دیا ہے کہ وہ بحران سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اقدامات کرے۔ ان اقدامات میں جیٹ فیول کی دستیابی کی نگرانی، ہوا بازی کے لیے کاربن مارکیٹ کی عارضی معطلی اور بعض ٹیکسز میں نرمی شامل ہے۔
اس سے قبل بھی فنانشل ٹائمز کے مطابق ایئرپورٹس کونسل انٹرنیشنل نے یورپی یونین کے ٹرانسپورٹ کمشنر کو خط میں خبردار کیا تھا کہ بلاک کے پاس صرف تین ہفتے کا جیٹ فیول باقی ہے۔ خط میں کہا گیا کہ اگر آبنائے ہرمز سے سپلائی بحال نہ ہوئی تو یورپ میں فیول کی شدید قلت پیدا ہو سکتی ہے، جس سے گرمیوں کی تعطیلات میں پروازوں کی منسوخی کا خطرہ بڑھ جائے گا۔
یاد رہے کہ امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے خلاف جنگ کا آغاز کیا تھا، جس کے بعد ایران نے مؤثر طور پر آبنائے ہرمز کو تمام غیر ملکی جہازوں خاص طور پر امریکا اور اسرائیل کے لیے بند کردیا تھا۔
یورپی ایوی ایشن سیکٹر بھی امریکا-اسرائیل اور ایران تنازع کے باعث متاثر ہے، جس کے نتیجے میں متعدد خلیجی ممالک کی فضائی حدود بند کر دی گئیں۔ یورپی یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی نے یورپی ایئرلائنز کو متحدہ عرب امارات اور قطر سمیت بعض علاقوں میں پروازوں سے روک رکھا ہے۔
صورت حال اس وقت مزید سنگین ہو گئی جب امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے گذشتہ دنوں اعلان کیا گیا تھا کہ امریکا ایرانی جہازوں اور ایسے کسی بھی جہاز کو روک دے گا جو ایران کو ٹول ادا کرے گا، جب کہ انہوں نے خبردار کیا کہ ایرانی تیز رفتار حملہ آور کشتیوں کو ناکہ بندی کے قریب آنے پر تباہ کردیا جائے گا۔
دوسری جانب ایران نے بھی خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے اور خلیجی ممالک کی بندرگاہوں کے خلاف جوابی کارروائی کی جائے گی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ناکہ بندی کے ابتدائی اعلان کے فوراً بعد ایک ایرانی جہاز وہاں سے کامیابی کے ساتھ گزرنے میں کامیاب رہا تھا، جو اب تک اس محاصرے کو ناکام بنانے والا واحد جہاز تھا۔
گذشتہ روز اس معاملے پر نیٹو کے اندر اختلافات بھی سامنے آئے۔ برطانیہ اور فرانس نے واضح کیا کہ وہ اس کارروائی میں شامل نہیں ہوں گے، جب کہ یورپی یونین نے اس اہم سمندری راستے کو کھلا رکھنے پر زور دیا ہے کیونکہ اس کی بندش عالمی تجارت اور سپلائی چین کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
ادھر آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشے کے باعث یورپ میں جیٹ فیول کی قلت کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ ایوی ایشن انڈسٹری کے مطابق اگر صورت حال برقرار رہی تو چند ہفتوں میں ایندھن کی شدید کمی ہو سکتی ہے۔
ایئرلائنز گروپ نے تجویز دی ہے کہ یورپی یونین مشترکہ طور پر کیروسین (جیٹ فیول) کی خریداری پر غور کرے، جیسا کہ 2022 میں توانائی بحران کے دوران قدرتی گیس کے لیے کیا گیا تھا۔ ساتھ ہی رکن ممالک کے لیے ہنگامی تیل ذخائر کے قوانین میں ترمیم کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے تاکہ جیٹ فیول کو واضح طور پر شامل کیا جا سکے۔
مزید برآں ایئرلائنز نے کہا ہے کہ جنگ اور فضائی حدود کی بندش کے باعث پروازوں میں خلل کو قانونی طور پر جائز قرار دیا جائے تاکہ سلاٹس کے استعمال سے متعلق قوانین میں نرمی دی جا سکے۔
یورپی کمیشن نے اعلان کیا ہے کہ وہ 22 اپریل کو توانائی مارکیٹ پر ایران تنازع کے اثرات کم کرنے کے لیے اقدامات کا پیکیج پیش کرے گا، تاہم یہ واضح نہیں کہ اس میں جیٹ فیول سے متعلق مخصوص اقدامات شامل ہوں گے یا نہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر آبنائے ہرمز کی صورت حال میں بہتری نہ آئی تو یورپ کو نہ صرف فضائی آپریشنز بل کہ وسیع تر توانائی بحران کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔