
آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی میں دو گھنٹے باقی رہ گئے ہیں جب کہ اس اہم سمندری گزرگاہ کی بحالی کے لیے برطانیہ اور فرانس نے سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ برطانوی وزیراعظم نے کہا کہ 40 ممالک اجلاس میں آبنائے ہرمز سے جہازوں کی حفاظت کے مربوط پلان پربات ہوگی۔
پیر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی تجارت اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں، جس کے باعث مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس اہم سمندری راستے کو کھولنے اور جہاز رانی کی آزادی بحال کرنے کے لیے 40 سے زائد ممالک کو اکٹھا کیا گیا ہے جو اس مقصد میں شریک ہیں۔
کیئر اسٹارمر نے بتایا کہ برطانیہ اور فرانس رواں ہفتے ایک مشترکہ سربراہی اجلاس کی میزبانی کریں گے، جس میں تنازع کے خاتمے کے بعد عالمی بحری جہازرانی کے تحفظ کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر غور کیا جائے گا۔
حکام کے مطابق اس منصوبے کا مقصد بین الاقوامی بحری راستوں کو محفوظ بنانا اور عالمی تجارت کے تسلسل کو یقینی بنانا ہے۔
دوسری جانب برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پیر کے روز بی بی سی ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے واضح کیا ہے کہ برطانیہ کسی بھی دباؤ کے باوجود ایران کے خلاف جنگ میں شامل نہیں ہوگا اور نہ ہی آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کی حمایت کرے گا۔
کیئر اسٹارمر نے کہا کہ گزشتہ چند ہفتوں سے برطانیہ کی تمام تر توجہ اس اہم گزرگاہ کو کھولنے پر مرکوز ہے اور آئندہ بھی یہی کوششیں جاری رہیں گی۔ اسٹارمر کے مطابق خطے میں برطانوی بارودی سرنگیں صاف کرنے والے جہاز موجود ہیں، تاہم انہوں نے آپریشنل تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ انہیں جنگ میں شامل ہونے کے لیے دباؤ کا سامنا ہے لیکن وہ صرف اسی صورت میں کوئی قدم اٹھائیں گے جب اس کے لیے واضح قانونی بنیاد اور مکمل منصوبہ موجود ہو۔
’آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی پر یورپین یونین کا ردعمل
یورپی یونین نے آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی پر ردعمل دیتے ہوئے اس اہم سمندری گزرگاہ کو فوری طور پر کھولنے کا مطالبہ کیا ہے جب کہ سمندری راستوں کی بندش کو عالمی معیشت کے لیے خطرہ قرار دیا گیا ہے۔
صدر یورپی کمیشن نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش عالمی تجارت اور معیشت پر سنگین اثرات مرتب کر رہی ہے، اس لیے اسے فوری طور پر بحال کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اہم سمندری راستوں کی بندش سے عالمی سپلائی چین متاثر ہو رہی ہے جس کے باعث دنیا بھر میں معاشی دباؤ بڑھ رہا ہے۔
صدر یورپی کمیشن کا کہنا تھا کہ خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے بغیر صورت حال بہتر نہیں ہو سکتی، انہوں نے لبنان پر جاری بمباری پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق جب تک لبنان پر بمباری جاری رہے گی، خطے میں امن قائم نہیں ہو سکتا، اس لیے فوری جنگ بندی اور کشیدگی میں کمی ناگزیر ہے۔
واضح رہے کہ امریکا نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایرانی بندرگاہوں میں داخل ہونے اور نکلنے والے تمام بحری جہازوں کی ناکہ بندی کرے گا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق یہ اقدام پیر کو پاکستانی وقت کے مطابق شام 7 بجے سے نافذ ہوگا اور اس کا اطلاق تمام ممالک کے جہازوں پر ہوگا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ جو جہاز ایران کو ٹول ادا کریں گے انہیں بین الاقوامی پانیوں میں محفوظ راستہ نہیں دیا جائے گا جب کہ ایران کی جانب سے کسی بھی کارروائی کا سخت جواب دیا جائے گا۔
ایرانی مسلح افواج نے بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ خلیج اور بحیرہ عمان کی بندرگاہیں یا تو سب کے لیے ہوں گی یا کسی کے لیے نہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق اپنی سمندری حدود میں خودمختاری کا استعمال ایران کا حق ہے اور امریکی پابندیاں غیر قانونی اور سمندری قزاقی کے مترادف ہیں۔
ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس کی بندرگاہوں کی سلامتی کو خطرہ ہوا تو خطے کی کوئی بھی بندرگاہ محفوظ نہیں رہے گی۔