کیا ٹرمپ نے جے ڈی وینس کو قربانی کا بکرا بنایا؟ اسلام آباد مذاکرات اور امریکی سیاست کا دلچسپ پہلو

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی دلچسپ شخصیت اور اپنے کیے گئے فیصلوں کی ذمہ داری اپنے ساتھیوں پر ذمہ داری ڈالنے کے حوالے سے مشہور ہیں، اور اب ایسا لگتا ہے کہ ان کے نائب صدر جے ڈی وینس ان کے اگلے نشانے پر ہو سکتے ہیں۔

کچھ عرصہ پہلے وائٹ ہاؤس میں ایک بریفنگ کے دوران ٹرمپ نے مذاق میں کہا تھا کہ اگر ایران کے ساتھ معاہدہ ہو گیا تو وہ اس کا سارا کریڈٹ خود لیں گے، لیکن اگر معاہدہ نہ ہوا تو وہ اس کا ذمہ دار جے ڈی وینس کو ٹھہرائیں گے۔

اب جبکہ جے ڈی وینس اسلام آباد میں ہونے والے 21 گھنٹے طویل مذاکرات سے خالی ہاتھ واپس لوٹ چکے ہیں، تو یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا واقعی ٹرمپ خود کو بچانے کے لیے اپنے نائب کو اس ناکامی کا ذمہ دار قرار دیں گے؟

جے ڈی وینس کے لیے ایران کو مذاکرات کی میز پر زیر کرنے کا مشن شروع سے ہی بہت مشکل تھا۔

ٹرمپ نے کسی تجربہ کار سفارت کار کے بجائے وینس کو اس لیے چنا کیونکہ وہ انتظامیہ میں ایران کے ساتھ جنگ کے سب سے بڑے مخالف سمجھے جاتے تھے۔

لیکن دوسری طرف ایران میں اب مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت میں ایک ایسی حکومت ہے جو ماضی کے مقابلے میں زیادہ سخت گیر موقف رکھتی ہے۔

ایران کی قیادت کسی جلدی میں نہیں ہے اور وہ اپنی شرائط پر اڑی ہوئی ہے، جس میں آبنائے ہرمز پر ٹیکس وصول کرنے کا حق اور ایٹمی پروگرام ختم کیے بغیر پابندیوں کا خاتمہ شامل ہے۔

وینس نے جب ایٹمی پروگرام ترک کرنے کی تجویز دی تو ایرانی وفد نے اسے فوراً مسترد کر دیا۔

اس پوری کہانی میں دلچسپ بات ٹرمپ کا بدلتا ہوا رویہ ہے۔ کبھی وہ ایران کی دس نکاتی تجویز ماننے کی بات کرتے ہیں اور کبھی اچانک آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا اعلان کر دیتے ہیں۔

وینس جب اسلام آباد میں تہران کو منانے کی کوشش کر رہے تھے، عین اسی وقت ٹرمپ نے میڈیا سے کہا کہ چاہے معاہدہ ہو یا نہ ہو، مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ ہم تو جنگ جیت چکے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے امریکی نیوز آؤٹ لیٹ ’ایم ایس ناؤ‘ کو بتایا کہ جے ڈی وینس کا اثر و رسوخ وائٹ ہاؤس میں کم ہو رہا ہے کیونکہ وہ کئی معاملات پر صدر سے اختلاف کر چکے ہیں۔

جہاں مارکو روبیو جیسے وزراء ٹرمپ کے ہر فیصلے پر جی حضوری کرتے ہیں، وہیں وینس اپنے آزادانہ خیالات کی وجہ سے الگ تھلگ دکھائی دیتے ہیں۔

امریکی میڈیا کے مطابق، جے ڈی وینس کر وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتار کی پلاننگ سے بھی دور رکھا گیا تھا۔

ٹرمپ پہلے ہی اپنے کئی وفادار ساتھیوں کو نکال چکے ہیں۔

پچھلے ہی ماہ انہوں نے ہوم لینڈ سیکیورٹی کی سربراہ کرسٹی نوم اور اٹارنی جنرل پام بونڈی کو فارغ کیا۔

اگرچہ نائب صدر کو نکالنا اتنا آسان نہیں ہوتا، لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ ٹرمپ اس ناکامی کا بوجھ وینس پر ڈال کر ان کے مستقبل کے صدارتی خوابوں کو چکنا چور کر سکتے ہیں۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا جے ڈی وینس اس سیاسی بھنور سے نکل پائیں گے یا اسلام آباد کا یہ مشن ان کے سیاسی کیریئر کا سب سے مشکل موڑ ثابت ہوگا۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles