امریکا آمرانہ روش ترک کر کے ایرانی حقوق کا احترام کرے تو معاہدہ ممکن ہے: صدر مسعود پزشکیان

اسلام آباد میں ہونے والے امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ مذاکرات کے بعد ایرانی قیادت کی جانب سے اہم بیانات سامنے آئے ہیں جن میں ایک طرف مستقبل کے لیے امید ظاہر کی گئی ہے تو دوسری طرف مذاکرات کی ناکامی کی وجوہات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اگر امریکی حکومت اپنی آمرانہ روش ترک کر دے اور ایرانی قوم کے حقوق کا احترام کرے تو امریکا کے ساتھ ایک معاہدہ ہونا ممکن ہو سکتا ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکا کے ساتھ کسی نتیجے پر پہنچنا ناممکن نہیں ہے اور اس کے لیے راستہ نکالا جا سکتا ہے۔

صدر پزشکیان نے مذاکراتی ٹیم کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی ٹیم کے ارکان بالخصوص اپنے عزیز بھائی ڈاکٹر محمد باقر قالیباف کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور دعا گو ہیں کہ اللہ انہیں مزید ہمت اور طاقت عطا فرمائے۔

دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی ان مذاکرات کے حوالے سے اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔

عباس عراقچی نے ایکس پر لکھا: ”گزشتہ 47 سالوں میں اعلیٰ ترین سطح پر ہونے والے ان انتہائی اہم مذاکرات میں ایران نے جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا کے ساتھ نیک نیتی سے بات چیت کی۔“

انہوں نے بتایا کہ ”جب ہم اسلام آباد مفاہمتی یادداشت سے محض چند انچ کے فاصلے پر تھے، تو ہمیں حد سے بڑھے ہوئے مطالبات، بدلتے ہوئے مؤقف اور ناکہ بندی کا سامنا کرنا پڑا۔“

عباس عراقچی نے امریکا کے لیے طنزیہ کہا کہ ”کوئی سبق نہیں سیکھا گیا۔ نیک نیتی سے نیک نیتی جنم لیتی ہے اور دشمنی سے دشمنی۔“

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles