
روسی وزارت خارجہ نے مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ کشیدہ صورت حال پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ خلیج فارس کے خطے میں پیچیدہ بحران کے حل کا ایک اہم موقع پیدا ہو رہا ہے، جب کہ عالمی برادری کی نظریں اسلام آباد میں پاکستان کی ثالثی میں جاری امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات پر مرکوز ہیں۔
روسی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ بیشتر ممالک ان مذاکرات کی کامیابی کو نہ صرف خطے بلکہ دنیا کے لیے فائدہ مند سمجھتے ہیں اور اس سے امن کی راہ ہموار ہونے کی امید رکھتے ہیں۔
تاہم روس نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ بعض قوتیں دانستہ یا غیر دانستہ طور پر قیام امن کی کوششوں میں رکاوٹ ڈال رہی ہیں۔ بیان میں ان عناصر پر تنقید کی گئی جو ایران کے خلاف کارروائیوں کے بعد اب آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے مسائل کا ذمہ بھی ایران پر ڈال رہے ہیں۔
روسی وزارت خارجہ کے مطابق واقعات کی اصل ترتیب کو مسخ نہیں کیا جانا چاہیے اور یہ حقیقت مدنظر رکھنی چاہیے کہ 28 فروری تک آبنائے ہرمز ایک اہم عالمی گزرگاہ کے طور پر بلا تعطل فعال رہی۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اس وقت سب سے اہم ہدف خطے میں جاری جنگ اور کشیدگی کا خاتمہ ہے، جس کے اثرات خلیجی ممالک، لبنان اور اسرائیل-لبنان سرحدی علاقوں تک پھیل چکے ہیں، جہاں فوجی سرگرمیاں فوری طور پر بند ہونا ضروری ہیں۔
روس نے زور دیا کہ تمام تنازعات کو سیاسی اور سفارتی ذرائع سے حل کیا جائے اور اس سلسلے میں وہ اپنے شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے گا تاکہ مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا امن قائم کیا جا سکے۔
روسی وزارت خارجہ نے اسلام آباد مذاکرات کے شرکا پر زور دیا کہ وہ ذمہ دارانہ طرز عمل اختیار کریں اور کسی بھی ایسے اقدام سے گریز کریں جو اس اہم سفارتی موقع کو نقصان پہنچا سکتا ہو۔
بیان کے اختتام پر روس نے خلیج فارس کے لیے ایک جامع سیکیورٹی ڈھانچے کی اپنی دیرینہ تجویز کو دہراتے ہوئے کہا کہ اس میں تمام ساحلی ممالک، بہ شمول عرب ریاستوں اور ایران کے درمیان مکالمہ اور بیرونی شراکت داروں کی تعمیری شمولیت ضروری ہے تاکہ خطے میں پائیدار استحکام یقینی بنایا جا سکے۔