
جدید تحقیق نے یہ انکشاف کیا ہے کہ اسمارٹ فون اور سوشل میڈیا کا مسلسل استعمال انسانی دماغ کو وقت سے پہلے بوڑھا کر رہا ہے، تاہم صرف دو ہفتوں کے لیے ان چیزوں سے دوری اختیار کرنے سے دماغی صحت میں دس سال کے برابر بہتری لائی جا سکتی ہے۔
اس نئی تحقیق نے یہ خوشخبری سنائی ہے کہ اسمارٹ فون کے حد سے زیادہ استعمال سے دماغ کو پہنچنے والے نقصان کو محض دو ہفتوں کے ڈیجیٹل ڈیٹاکس یعنی انٹرنیٹ سے دوری کے ذریعے ٹھیک کیا جا سکتا ہے۔ سائنسی جریدے ’ پی این اے ایس نیکسس‘ میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں 467 افراد کو شامل کیا گیا تھا۔
تحقیق میں شامل افراد سے کہا گیا کہ وہ 14 دنوں کے لیے اپنے موبائل فون پر انٹرنیٹ کا استعمال مکمل طور پر بند کر دیں، حالانکہ انہیں فون کالز کرنے، عام پیغامات بھیجنے اور لیپ ٹاپ یا ٹیبلٹ پر انٹرنیٹ استعمال کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موبائل فون کا استعمال کمپیوٹر کے مقابلے میں زیادہ لاشعوری اور نشہ آور ہوتا ہے، اس لیے توجہ صرف فون پر مرکوز کی گئی۔
نتائج حیران کن بھی تھے اور سوچنے پر مجبور کرنے والے بھی۔ روزانہ اسکرین ٹائم 314 منٹ سے کم ہو کر 161 منٹ رہ گیا، اور اس کمی کے ساتھ ہی لوگوں کے مزاج، توجہ اور ذہنی سکون میں واضح بہتری دیکھی گئی۔
محققین کے مطابق اس دو ہفتوں کے وقفے نے دماغی کارکردگی کو ایک دہائی پیچھے کی طرف موڑ دیا ہے۔ جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے ماہرین کا بھی یہی ماننا ہے کہ موبائل کے استعمال میں تھوڑی سی کمی بھی انسانی رویے اور مزاج پر مثبت اثرات مرتب کرتی ہے۔
یہ بات بھی سامنے آئی کہ مکمل طور پر رابطہ منقطع کرنا ضروری نہیں، بلکہ صرف چند دن کی کمی بھی ذہن پر مثبت اثر ڈال سکتی ہے۔
اس سلسلے میں ہارورڈ یونیورسٹی کی ایک اور تحقیق، جو ”جے اے ایم اے نیٹ ورک اوپن“ میں شائع ہوئی ہے اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ صرف ایک ہفتہ اسمارٹ فون سے دور رہنے سے انسان میں بے چینی، اداسی اور نیند کی کمی کی شکایات میں نمایاں کمی آتی ہے۔
یہ سائنسی حقائق ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کمپنیوں پر انٹرنیٹ یا سوشل میڈیا کے ایڈکشن کے معاملے پر قانونی شکنجہ کسا جا رہا ہے۔
حال ہی میں امریکہ کی مختلف عدالتوں نے میٹا اور یوٹیوب جیسی کمپنیوں کو کروڑوں پاؤنڈ جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے کیونکہ یہ پلیٹ فارمز بچوں اور نوجوانوں کی ذہنی صحت کو نقصان پہنچانے کا سبب بن رہے ہیں۔
دنیا بھر کی حکومتیں اس سنگین صورتِ حال کو بھانپتے ہوئے اب ایکشن لے رہی ہیں۔ انڈونیشیا میں سولہ سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی عائد کر دی گئی ہے جبکہ امریکا کی مختلف ریاستوں میں بھی اسی طرح کے قوانین پر غور کیا جا رہا ہے۔
ایک اوسط انسان دن میں چار سے پانچ گھنٹے اپنے فون کو دیتا ہے، جو کہ ماہرین کے مطابق ایک تشویشناک صورتِ حال ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ آپ کو ٹیکنالوجی کو ہمیشہ کے لیے چھوڑنے کی ضرورت نہیں، لیکن آپ کا دماغ آپ سے صرف چند دن کے سکون کا تقاضا ضرور کر رہا ہے تاکہ وہ اپنی اصل طاقت بحال کر سکے۔