
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے مضبوط وفد پاکستان بھیجا گیا ہے اور امریکا کی پہلی ترجیح یہی ہے کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل نہ ہوں، جبکہ آبنائے ہرمز کو جلد کھولنے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔
واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے ایک اچھی اور بااختیار ٹیم پاکستان بھیجی گئی ہے اور وہ خود بھی ان مذاکرات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جے ڈی وینس، جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف پر مشتمل امریکی وفد اسلام آباد میں ہونے والے اہم مذاکرات میں شرکت کرے گا۔ ان کے مطابق یہ ایک مضبوط اور قابل ٹیم ہے جو بہتر نتائج حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکا کے نزدیک اچھی ڈیل کا مطلب یہی ہے کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار نہ ہوں اور اسے کسی صورت نیوکلیئر ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران میں پہلے ہی رجیم چینج ہو چکی ہے تاہم امریکا کا مقصد یہ نہیں ہے بلکہ 99 فیصد توجہ اس بات پر ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔
امریکی صدر نے آبنائے ہرمز سے متعلق کہا کہ یہ عالمی سمندر ہے اور ایران کو یہاں سے گزرنے والے جہازوں پر کسی قسم کا ٹول لینے کا حق حاصل نہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز کو بہت جلد مکمل طور پر کھول دیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا کو اس معاملے میں کسی بیک اپ پلان کی ضرورت نہیں ہے اور صورتحال کو کنٹرول میں رکھا گیا ہے۔
ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران کی فوج کو ختم کر دیا گیا ہے جبکہ اس کی میزائل بنانے کی صلاحیت بھی اب بہت کم رہ گئی ہے۔
انہوں نے آخر میں کہا کہ اب دیکھنا ہوگا کہ آج ہونے والے مذاکرات میں کیا پیش رفت سامنے آتی ہے۔