ایران کے صرف چند پوائنٹس قابل قبول ہیں، بند کمروں میں بات ہوگی: صدر ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی جنگ بندی میں لبنان شامل نہیں، ایران کے صرف چند پوائنٹس امریکا کو قابل قبول ہیں اور انہیں پوائنٹس پر بند کمروں میں بات ہوگی، جنگ بندی کی بنیاد بھی یہی پوائنٹس ہیں۔

بدھ کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سوشل ٹروتھ پر جاری بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے معاملے پر کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے، فہرستیں اور خطوط شیئر کیے جارہے ہیں، یہ سب وہ فراڈیے کررہے ہیں جن کا اس معاہدے سے کوئی لینا دینا نہیں، فیڈرل انویسٹی گیشن مکمل ہونے کے بعد انہیں بے نقاب کیا جائے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ صرف چند بامعنی نکات ہیں جو امریکا کے لیے قابل قبول ہیں، ہم ان نکات پر بند کمرے میں بات چیت کریں گے، یہ وہ نکات ہیں جن کی بنیاد پر ہم نے جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ نکات معقول نوعیت کے ہیں اور ان پر آسانی سے عملدرآمد کیا جاسکتا ہے، بعض میڈیا رپورٹس کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ غیر مستند ذرائع کے حوالے سے خبریں نشر کی جا رہی ہیں جن کے پاس کسی قسم کا اختیار نہیں۔

ایک اور پیغام میں امریکی صدر نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی جنگ بندی میں لبنان شامل نہیں ہے، لبنان کو حزب اللہ کی وجہ سے جنگ بندی میں شامل نہیں کیا گیا، لبنان کا معاملہ الگ ہے، اس کو دیکھا جائے گا۔

اس سے قبل امریکی اخبار سے گفتگو میں جنگ بندی سے متعلق مذاکرات پر امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ آمنے سامنے مذاکرات جلد شروع ہوں گے، امریکا ایران کے ساتھ قریبی طور پر کام کرے گا، ہم ایران کے ساتھ محصولات اور پابندیوں پر بات کر رہے ہیں اور کریں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا مزید کہنا تھا ایران کے بارے میں یہ طے کیا گیا ہے وہاں نہایت مؤثر نظام حکومت کی تبدیلی ہوگی، ایران میں یورینئم افزودگی نہیں ہوگی، امریکا ایران کے ساتھ مل کر زمین میں دفن تمام نیوکلیئر ڈسٹ نکال کر ختم کرے گا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ معاملہ اب بھی اور پہلے بھی سیٹلائٹ کی انتہائی سخت نگرانی میں رہا ہے، 15نکات میں سے بہت سے پہلے ہی طے ہو چکے ہیں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles