
امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کا جارحانہ رویہ اور صحافیوں کے سوالات پر غصہ انٹرنیٹ پر ایک بار پھر بحث کا مرکز بن گیا ہے، جہاں صارفین ان کے انداز پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کر رہے ہیں۔
امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے بدھ کے روز ایران کے ساتھ جنگ بندی کے معاملے پر میڈیا کو اعتماد میں لینے کے لیے پریس بریفنگ منعقد کی۔
بریفنگ کے دوران پیٹ ہیگسیتھ کا چہرہ مسلسل اترا ہوا تھا اور جب انہیں صحافیوں کے سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا تو جواب میں وہ ضبط کھو بیٹھے اور جارحانہ رویہ اختیار کرلیا۔
ایک صحافی نے پیٹ ہیگسیتھ سے امریکی جنگی طیارے کی ایران میں تباہی کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ جب صدر ٹرمپ اور آپ یہ دعویٰ کر رہے تھے کہ ایران کا فضائی دفاعی نظام مکمل تباہ ہو چکا ہے، توپھر ہمارا جدید ترین طیارہ کیسے گرا؟ کیا آپ امریکی عوام کو نقصانات کی اصل تصویر دکھانے سے ڈر رہے ہیں؟
ہیگستھ نے انتہائی غصے میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ سوال بدنیتی پر مبنی ہے‘۔ انہوں نے چینل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے نیٹ ورک کو اپنی رپورٹنگ کا معیار بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔
ایک اور صحافی نے پوچھا کہ امریکا آبنائے ہرمز کے ذریعے جہازوں کی محفوظ آمد روفت کیسے یقینی بنائے گا؟
صحافی نے جنرل ڈین کین سے سوال پوچھنے کی کوشش کی تو پیٹ ہیگسیتھ نے انہیں جواب دینے سے روکتے ہوئے کہا کہ ’یہ سوال نہیں بلکہ فردِ جرم ہے‘۔
بریفنگ کے دوران این بی سی نیوز کی خاتون صحافی کی جانب سے ایران کے میزائل پروگرام کے بارے میں سوال پر پیٹ ہیگسیتھ بھڑک گئے اور انہیں روک دیا۔
خاتون صحافی نے سوال کیا کہ ’ایران کی جانب سے اب بھی میزائل فائر کیے جارہے ہیں‘۔ جس پر امریکی وزیرِ جنگ کو غصہ آگیا۔ انہوں نے جواب دیا ’آپ اتنی بدتمیز کیوں ہیں؟ بس انتظار کریں، ابھی میں کسی اور کا سوال لے رہا ہوں‘۔
پریس بریفنگ کے دوران سخت سوالات کے جواب دیتے ہوئے وہ اس میڈیا نیٹ ورک پر بھی دبے لفظوں میں اپنا غصہ نکالتے رہے۔
دوسری جانب جنرل ڈین کین بریفنگ کے دوران خوش گوار انداز میں گفتگو کرتے رہے۔ ایک موقع پر انہوں نے ’آپریشن ایپک فیوری‘ کے دوران امریکی فوج کے کھانے پینے کی تفصیلات بتانا شروع کردی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اس آپریشن کے دوران ہماری اہلکاروں نے 6 لاکھ سے زائد کھانے استعمال کیے، اور تقریباً 9 لاکھ 50 ہزار گیلن سے زائد کافی، 2 ملین توانائی کے مشروبات اور کافی بڑی مقدار میں نکوٹین کا استعمال کیا۔
واضح رہے کہ امریکی میڈیا میں یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ پیٹ ہیگسیتھ عہدہ چھن جانے کے خوف سے وزیرِ جنگ کے لیے موزوں افسران کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
ایران کے ساتھ جنگ کے عین دوران انہوں نے فوج کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ایک درجن سے زائد سینیئر افسران کو برطرف یا جبری ریٹائرمنٹ پر بھیج دیا۔ جس میں کئی افسران وہ ہیں جو عراق، افغانستان اور خلیجی جنگوں میں برسوں خدمات انجام دیتے رہے۔
امریکی اخبار نیویارک پوسٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسیتھ کو اپنی نوکری چھن جانے کا خوف لاحق ہے۔ اس لیے وہ ہر اس شخص کو نشانہ بنا رہے ہیں جو ان کی جگہ لے سکتا ہے۔