امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو اسلحہ فراہم کرنے والے ممالک کو سخت وارننگ دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ایسے ممالک پر فوری طور پر 50 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا تاہم ساتھ ہی انہوں نے ایران کو ممکنہ ٹیرف اور پابندیوں میں نرمی کا عندیہ بھی دیا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی پر عملدرآمد شروع ہو گیا ہے اور امریکا کا پہلا جہاز بھی آبنائے ہرمز سے روانہ ہو چکا ہے۔ بدھ کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سوشل ٹروتھ پر جاری بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو اسلحہ کرنے والے ممالک پر ٹیرف عائد کریں گے۔
امریکی صدر نے کہا کہ جو بھی ملک ایران کو فوجی ہتھیار فراہم کرے گا، اس کی امریکا کو برآمد کی جانے والی تمام اشیا پر فوری طور پر 50 فیصد ٹیرف عائد ہوگا، یہ ٹیرف فوری طور پر عائد کیا جائے گا اور اس میں کسی قسم کی کوئی چھوٹ یا استثنیٰ نہیں ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ مل کر کام کرے گا، ایران میں رجیم چینج ہوگئی ہے جو ہمارا مقصد تھا، ایران میں مزید یورینیم کی افزودگی نہیں ہوگی، زمین میں دفن افزودہ یورینیم کو ایران کے ساتھ مل کر نکالیں گے، افزودہ مواد کی سیٹلائٹ کے ذریعے نگرانی ہورہی تھی اب بھی ہوتی ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ امریکا ایران کو ٹیرف اور پابندیوں میں ریلیف دینے پر آمادہ ہے، جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا کی جانب سے پیش کیے گئے 15 نکات میں سے کئی پر پہلے ہی اتفاق ہو چکا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ان بیانات کے باوجود ایران کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔