
ایران سے جنگ بندی کے لیے اسلام آباد مذاکرات پر امریکی کانگریس تقسیم ریپبلکن اور ڈیموکریٹس کے درمیان سیاسی جنگ چھڑ گئی، ریپبلکن ووٹرز کے درمیان صدر ٹرمپ کے حالیہ بیانات پر تناؤ برقرار ہے۔ اسی دوران اسلام آباد میں متوقع مذاکرات کی تیاری بھی جاری ہے، جس میں اہم امریکی نمائندے حصہ لیں گے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق کانگریس میں ایران کے ساتھ دو ہفتے کی جنگ بندی پر ردعمل بڑی حد تک پارٹی لائنوں کے مطابق ہے، لیکن کچھ داخلی اختلافات بھی سامنے آ رہے ہیں۔
پچھلے 40 دنوں کے پولز کے مطابق ریپبلکن ووٹرز کی ایک بڑی تعداد جنگ کے خلاف ہے اور انہیں لگتا ہے کہ ’’امریکی فوجی حملے حد سے زیادہ گئے۔‘‘
صدر ٹرمپ کے ایسٹر اتوار کے بیان میں ایران کے صفحہ ہستی سے مٹانے کی دھمکی نے ریپبلکن ووٹرز میں ناراضگی پیدا کی، اور کئی نے کہا کہ صدر نے ’’ریڈ لائن‘‘ کراس کر دی ہے۔ تاہم پارٹی کے قانون ساز جنگ بندی کو صدر کی ’’طاقت کے ذریعے امن‘‘ یا ایران پر زیادہ دباؤ کی حکمت عملی کے طور پر پیش کر رہے ہیں، جس سے ووٹرز کی ناراضگی کا عکس نہیں پڑتا۔
اسلام آباد میں متوقع مذاکرات کے لیے امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے، جن کے ساتھ خصوصی نمائندہ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کوشنر بھی ہوں گے۔ ابھی طے نہیں کہ مذاکرات براہِ راست ہوں گے یا ثالثی کے ذریعے۔
خطے میں موجود 50,000 سے زائد امریکی فوجیوں اور روزانہ ایک ارب ڈالر کے جنگی اخراجات بھی اہم سوالات کے طور پر باقی ہیں۔
علاوہ ازیں پینٹاگون کی 200 ارب ڈالر کی اضافی بجٹ کی درخواست بھی کانگریس کی منظوری کے منتظر ہے، جس سے جنگ کے مالی پہلوؤں پر غور کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔