ایران امریکا جنگ بندی: دبئی میں سونے کی قیمتیں بلند ترین سطح پر

دبئی میں سونے کی قیمتوں میں ایک ہی دن میں بڑی تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔ عالمی سطح پر جنگ بندی کے لیے ہونے والے مذاکرات اور مثبت اشاروں کے باعث عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، جس کا براہِ راست اثر دبئی کی ریٹیل مارکیٹ پر بھی پڑا ہے۔

گلف نیوز کے مطابق بدھ کی صبح دبئی میں سونے کی قیمتوں میں فی گرام 11 درہم کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ 24 قیراط سونے کی قیمت بڑھ کر 577.50 درہم فی گرام ہوگئی، جو گزشتہ روز 566.25 درہم تھی۔ اسی طرح 22 قیراط سونا بھی 534.75 درہم فی گرام تک پہنچ گیا ہے۔ یہ حالیہ ہفتوں میں ایک دن کے دوران ہونے والا سب سے بڑا اضافہ قرار دیا جا رہا ہے۔

عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں اضافے کا اثر صرف دبئی تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس کے اثرات سعودی عرب، عمان، قطر، بحرین، کویت اور بھارت سمیت پورے خطے کی مارکیٹوں پر دیکھے گئے۔

قیمتوں میں اس تیزی کی بنیادی وجہ عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت کا 4 ہزار 850 ڈالر فی اونس سے تجاوز کر جانا ہے۔ یہ اضافہ امریکی صدرٹرمپ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کے لیے دشمنی روکنے اور مذاکرات کو آگے بڑھانے کے معاہدے کے بعد دیکھنے میں آیا ہے۔ اس پیش رفت سے جیو پولیٹیکل تناؤ میں عارضی کمی آئی ہے اور مارکیٹ میں بہتری کی امید پیدا ہوئی ہے۔

جنگ بندی کی خبروں کے باعث امریکی ڈالر کی قدر میں معمولی کمی دیکھی گئی ہے، جس کی وجہ سے بین الاقوامی خریداروں کے لیے سونا سستا اور پرکشش ہو جاتا ہے۔ دوسری جانب، آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے کے امکانات نے خام تیل کی قیمتوں میں بھی کمی کی ہے، جس سے عالمی معیشت پر مہنگائی کا دباؤ کم ہونے کی توقع ہے۔

ماہرین کی رائے اور مستقبل کی صورتِ حال

معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سونے کی قیمتوں میں حالیہ اتار چڑھاؤ عالمی سیاسی حالات اور امریکی فیڈرل ریزرو کی شرحِ سود سے متعلق پالیسیوں پر منحصر ہے۔ اگرچہ قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، لیکن مارکیٹ اب بھی غیر مستحکم ہے اور خریداروں کو قیمتوں میں مزید تبدیلیوں کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

اس کے ساتھ ساتھ چاندی میں بھی سرمایہ کاروں کی دلچسپی بڑھ رہی ہے کیونکہ اسے صنعتی مقاصد اور محفوظ سرمایہ کاری دونوں کے لیے ایک بہترین متبادل سمجھا جا رہا ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles