
امریکا اور ایران کے مابین 2 ہفتوں کی جنگ بندی کے اعلان کے بعد دنیا بھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ عالمی برادری نے اس پیش رفت کو مشرقِ وسطیٰ میں امن کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔
سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوتریس نے پاکستان اور دیگر ممالک کی طرف سے جنگ بندی کو کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں پر عمل کریں اور جنگ بندی معاہدے کی شرائط کی مکمل پابندی کریں۔ ان کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ معاہدے پر عملدرآمد نہایت اہم ہے۔
آسٹریلیا کے وزیراعظم انتھونی البانی نے جنگ بندی کو ’مثبت خبر‘ قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ پیش رفت مستقل کشیدگی میں کمی اور تنازع کے خاتمے کا باعث بنے گی۔ انہوں نے امریکی صدر کے سابقہ بیانات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایران میں سویلین انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی بات غیر معمولی تھی۔
جاپان کے چیف کابینہ سیکریٹری منورو کہارا نے بھی امریکا اور ایران کے اعلانات کو مثبت پیش رفت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اب سب سے اہم بات یہ ہے کہ صورتحال حقیقتاً کشیدگی میں کمی کی طرف جائے، خصوصاً آبنائے ہرمز میں محفوظ آمد و رفت کو یقینی بنایا جائے۔
عراق کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ اس پیش رفت کو اہم سمجھتی ہے، جو خطے میں کشیدگی کم کرنے، استحکام بڑھانے اور سیکیورٹی کو مضبوط بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔
علاوہ ازیں مصر کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ جنگ بندی سفارتکاری کے لیے ایک بہترین موقع فراہم کرتی ہے۔
خطے کی صورت حال پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ دو ہفتوں کی یہ جنگ بندی ایک ابتدائی قدم ہے، تاہم خطے میں دیرپا استحکام کے لیے فریقین کو مکمل سنجیدگی کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنا ہوں گے۔
ملائیشین وزیراعظم انور ابراہیم نے خطے میں دیرپا امن کے قیام پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی 10 نکاتی تجویز کو عملی شکل دے کر ایک جامع امن معاہدے میں تبدیل کیا جائے اور ایسا معاہدہ کیا جائے جو ناصرف ایران بلکہ عراق، لبنان اور یمن کے لیے بھی استحکام کا باعث بنے۔
ادھر انڈونیشیا کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ فریقین کو خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سفارت کاری کا احترام کرنا چاہیے۔
جرمن وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ امریکا، اسرائیل اور ایران کی جنگ بندی دیرپا امن کی جانب اہم پہلا قدم ہونا چاہیے۔ وزارت خارجہ انڈونیشیا نے امن فوجیوں کی ہلاکت پر اقوام متحدہ سے تحقیقات کی اپیل بھی کی ہے۔
جرمن چانسلر کا کہنا ہے کہ جرمن حکومت جنگ بندی کے لیے اہم معاہدہ کرانے پر پاکستان کی شکر گزار ہے، اب توجہ جنگ کے مکمل خاتمے کے لیے مذاکرات پر ہونی چاہیے، جرمن حکومت سفارتی کوششوں کی حمایت کرتی ہے۔
عالمی رہنماؤں نے پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کی ثالثی کو بھی کشیدگی کم کرنے میں مددگار قرار دیا ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں دیرینہ مسائل کے حل اور باہمی تعلقات کی بحالی پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔ عالمی برادری کو توقع ہے کہ یہ مذاکرات نہ صرف خطے میں کشیدگی کو کم کریں گے بلکہ دنیا بھر میں امن کی نئی راہیں بھی ہموار کریں گے۔
ادھر عمان، جو اس معاملے میں اہم ثالثی کردار ادا کرتا رہا ہے، نے جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا۔ عمانی وزارت خارجہ کے مطابق یہ پیش رفت خطے میں امن کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہے۔