ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی فوری طور پر نافذ ہوگی: وزیراعظم شہباز شریف


وزیراعظم شہباز شریف نے باضابطہ طور پر اعلان کیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور ریاستہائے متحدہ امریکا، اپنے تمام اتحادیوں سمیت، لبنان اور دیگر تمام محاذوں پر فوری جنگ بندی کے لیے رضامند ہو گئے ہیں اور یہ معاہدہ فوری طور پر نافذ العمل ہو گیا ہے، جس سے خطے میں منڈلاتے ہوئے ایک بڑی تباہی کے سائے چھٹنا شروع ہو گئے ہیں۔
وزیراعظم نے اس اہم موڑ پر دونوں ممالک کی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہیں 10 اپریل 2026، بروز جمعہ، اسلام آباد میں مذاکرات کے اگلے مرحلے کے لیے مدعو کیا ہے تاکہ تمام تنازعات کا ایک مستقل اور حتمی حل نکالا جا سکے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے بے حد خوشی ہو رہی ہے کہ فریقین نے شاندار حکمت اور سمجھ بوجھ کا مظاہرہ کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم دونوں ملکوں کی قیادت کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں جنہوں نے امن اور استحکام کی خاطر تعمیری بات چیت جاری رکھی۔
وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ اسلام آباد میں ہونے والے یہ مذاکرات پائیدار امن کے حصول میں کامیاب ہوں گے اور آنے والے دنوں میں مزید اچھی خبریں قوم کے ساتھ شیئر کی جائیں گی۔

اس سے قبل وزیراعظم نے صدر ٹرمپ سے اپیل کی تھی کہ وہ سفارت کاری کو موقع دینے کے لیے ایران پر حملوں کی ڈیڈ لائن میں توسیع کریں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس عارضی جنگ بندی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ ہونے والی بات چیت اور ان کی درخواست پر ایران کے پلوں اور بجلی گھروں جیسے بنیادی ڈھانچے پر حملے روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ پاکستان کی قیادت نے مجھ سے درخواست کی کہ میں آج رات ایران کی طرف بھیجی جانے والی تباہ کن طاقت کو روک دوں۔

انہوں نے واضح کیا کہ یہ جنگ بندی اس شرط پر ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کو مکمل اور محفوظ طریقے سے بحری ٹریفک کے لیے کھول دے گا۔
ٹرمپ نے ایران کی جانب سے پیش کی گئی دس نکاتی تجویز کو مذاکرات کے لیے ایک قابلِ عمل بنیاد قرار دیا ہے۔
دوسری جانب ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے بھی اس معاہدے کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے اس کی منظوری دے دی ہے۔
ایران نے اس پیش رفت کو اپنی فتح قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ حملوں کی معطلی کے بدلے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے تیار ہے۔
اس امن عمل میں اسرائیل نے بھی شامل ہونے کا اعلان کیا ہے اور وہ بھی دو ہفتوں تک اپنی بمباری روک دے گا۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles