سمندری ٹریفک کے ڈیٹا کے مطابق دو قطری قدرتی گیس کے ٹینکرز، راشیدہ اور ال دایین، ہرمز کے سمندری گزرگاہ عبور کرنے سے قبل واپس پلٹ گئے۔ یہ دونوں جہاز تنازع کے آغاز کے بعد سے قطری ساحل کے نزدیک لنگر انداز تھے اور اتوار کو روانہ ہوئے تھے، مگر ابھی تک واضح نہیں کہ انہوں نے کیوں واپس موڑ لیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، اگر قطری ایل این جی ٹینکرز، ال دایین اور راشیدہ، آبنائے ہرمز سے عبور کرنے میں کامیاب ہو جاتے تو یہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد ایل این جی کارگو کا پہلا عبور ہوتا، کیونکہ 28 فروری سے جاری کشیدگی کی وجہ سے خلیج فارس میں کشتی رانی شدید متاثر ہوئی ہے۔

اینالٹکس فرم کپلیر اورایل ایس ای جی کے مطابق دونوں جہازوں نے اپنا کارگو فروری کے آخر میں لوڈ کیا تھا اور ال دایین چین کی جانب سگنل بھیج رہا تھا۔ دونوں ٹینکرز قطر انرجی کے کنٹرول میں ہیں، تاہم کمپنی نے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

قطر دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ایل این جی برآمد کنندہ ہے اور اس کی زیادہ تر شپمنٹس ایشیا کی جانب جاتی ہیں۔ تاہم ایرانی حملوں کی وجہ سے قطر کی ایل این جی برآمدات کی تقریباً 17 فیصد صلاحیت متاثر ہوئی ہے اور توقع ہے کہ 12.8 ملین ٹن فی سال ایل این جی کی مرمت میں تین سے پانچ سال لگ سکتے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ منگل کی رات تک آبنائے ہرمز کا راستہ کھولا جانا چاہیے اور اگر ایران آزادانہ کشتی رانی کی اجازت نہیں دیتا تو اس کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں گے۔
آبنائے ہرمز سے کچھ ٹینکرز عبور کرنے میں کامیاب بھی ہوئے ہیں، جن میں ترک پرچم والے اوشن تھنڈر شامل ہیں، جو اتوار کو ملائیشیا کی جانب روانہ ہوا۔ ترک وزارت نقل و حمل کے مطابق یہ خلیج فارس سے روانہ ہونے والا تیسرا ترک جہاز ہے۔
مارینِ ٹریفک ڈیٹا کے مطابق موجودہ کشیدگی میں آبنائے ہرمز کے ذریعے صرف تقریباً 5 فیصد کشتی رانی کا حجم گزر رہا ہے۔ سمندری تجزیہ کاروں کے مطابق ہفتہ کے روز 20 عبوری سفر ہوئے، جن میں 14 باہر جانے والے تھے۔
ہرمز عبوری راستے میں ایران کے پرچم والے دو غیر تیل بردار جہاز بھی گزرے، جب کہ چین، بھارت، پاکستان اور ترکی نے براہ راست مذاکرات کے ذریعے اپنے بعض جہازوں کے لیے عبوری اجازت حاصل کی ہے۔ عراق کو پابندیوں سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران ہر عبوری جہاز سے دو ملین امریکی ڈالر تک فیس وصول کر رہا ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ کسی جہاز نے یہ فیس ادا کی ہے یا نہیں۔