امریکا نے ایران میں پھنسا اپنا پائلٹ کیسے ڈھونڈا؟

ایران میں گرنے والے امریکی ایف-15ای طیارے کے عملے کے رکن کو نکالنے کے لیے کیے گئے پیچیدہ ریسکیو آپریشن کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں، جس میں درجنوں طیاروں، اسپیشل فورسز اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران میں گرنے والے امریکی ایف-15ای طیارے کے ایک عملے کے رکن کو بچانے کے لیے بڑے پیمانے پر آپریشن کیا گیا، جس میں سیکڑوں اہلکار اور جدید جنگی وسائل شامل تھے۔

فوجی ماہر اور ریٹائرڈ میجر جنرل مارک میک کارلی نے اس مشن کی حساسیت پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ جس علاقے میں طیارہ گرا وہ انتہائی دشوار گزار اور پہاڑی تھا جہاں پہنچنا جان جوکھوں کا کام تھا۔ صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو گئی جب ایرانی حکام نے پائلٹ کو پکڑنے والے کے لیے بھاری انعام کا اعلان کر دیا۔

جنرل میک کارلی کے مطابق پائلٹ زخمی تھا اور اس کے پاس کھانے پینے کا سامان اور پانی بھی انتہائی کم تھا، جبکہ دوسری طرف انعام کے لالچ میں مقامی لوگ اور ایرانی فورسز اسے چپے چپے پر تلاش کر رہے تھے۔ ایسی حالت میں پائلٹ نے اپنے پاس موجود ہنگامی سگنل دینے والے آلے کا استعمال کیا جس نے مسلسل ہیڈ کوارٹر کو اس کی لوکیشن کے بارے میں آگاہ رکھا اور یہی اس کی زندگی بچانے کا اہم ذریعہ بنا۔

رپورٹس کے مطابق ہتھیاروں کے نظام کا ماہر (ویپن سسٹمز آفیسر) طیارہ گرنے کے بعد ملبے سے دور ایک اونچی پہاڑی پر چھپ گیا اور اس نے ایمرجنسی بیکن فعال کر دیا، جس کے ذریعے اس کا مقام معلوم کیا گیا۔

امریکی سیکیورٹی تجزیہ نگار جم شوٹو نے ذرائع کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ لاپتہ پائلٹ نے جمعہ کی دوپہر کو ہی دشمن کے علاقے سے امریکی فوج سے رابطہ کر لیا تھا۔ اس رابطے کے بعد ریسکیو آپریشن کی تیاریاں تیز کر دی گئی تھیں، تاہم پائلٹ کے زخمی ہونے کی وجہ سے ٹیم کو اسے وہاں سے نکالنے میں شدید مشکلات کا سامنا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اس مشن کے دوران امریکی طیاروں نے پائلٹ کی تلاش میں انتہائی کم بلندی پر پروازیں کیں جس کی وجہ سے ان پر زمین سے حملے کا شدید خطرہ موجود تھا۔ اس کے باوجود امریکی کمانڈوز اور فضائیہ نے ہم آہنگی کے ساتھ اس مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچایا۔

امریکی میڈیا کے مطابق اس ریسکیو مشن میں درجنوں طیارے شریک تھے جبکہ اسپیشل کمانڈو فورسز اور بھاری فضائی کور بھی فراہم کیا گیا۔ آپریشن میں ہیلی کاپٹرز، جنگی طیارے، سائبر، خلائی اور انٹیلیجنس صلاحیتیں بھی استعمال کی گئیں۔

مزید رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ امریکی طیاروں نے ایرانی قافلوں کو نشانہ بنایا تاکہ انہیں زخمی اہلکار کے مقام کے قریب آنے سے روکا جا سکے۔

ذرائع کے مطابق اس دوران زمینی سطح پر جھڑپوں کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آئی ہیں، تاہم اس کی مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔

نیویارک ٹائمز اور فوکس نیوز کے مطابق آپریشن کے دوران کچھ امریکی طیاروں کو خود ہی تباہ کرنا پڑا، جن میں دو خراب ٹرانسپورٹ طیارے بھی شامل تھے جو ایران کے ایک دور دراز اڈے پر پھنس گئے تھے۔

رپورٹس کے مطابق زخمی اہلکار گرفتاری سے بچتے ہوئے 36 گھنٹے سے زائد وقت تک چھپا رہا، جس کے بعد اسے بحفاظت نکال لیا گیا، تاہم اس کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

فوکس نیوز کے مطابق اس ریسکیو آپریشن کے دوران متعدد امریکی فوجی اہلکار بھی زخمی ہوئے، جبکہ اس پورے مشن کو انتہائی پیچیدہ اور خطرناک قرار دیا جا رہا ہے۔

آسٹریلوی فوج کے ریٹائرڈ میجر جنرل مک ریان کا کہنا ہے کہ اس طرح کا پیچیدہ آپریشن دنیا کی کوئی اور فوج شاید ہی کر سکے۔

ان کے مطابق جیسے ہی طیارہ گرنے کی تصدیق ہوئی، امریکی فضائیہ اور اسپیشل فورسز نے ہنگامی منصوبہ بندی شروع کر دی تھی۔

جنرل مک ریان کے مطابق، اگرچہ ایرانی حدود میں اڑنا خطرناک تھا، لیکن ایک ماہ سے جاری جنگ کی وجہ سے ایران کا دفاعی نظام کافی حد تک کمزور ہو چکا ہے، جس کا فائدہ امریکی ٹیم کو ہوا۔

انہوں نے بتایا کہ اب تک کی 10 ہزار سے زائد پروازوں میں یہ صرف پہلا جنگی طیارہ ہے جو گرا ہے، جو امریکی فضائی برتری کا ثبوت ہے۔ یہ آپریشن محض ایک فوجی کی واپسی نہیں بلکہ امریکی عسکری طاقت کا ایک بڑا مظاہرہ بھی ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles