عالمی مہنگائی اور جغرافیائی خطرات: پاکستان دنیا کی تیسری بدترین مارکیٹ قرار

پاکستان کی ایکویٹی مارکیٹ نے 2026 کی پہلی سہ ماہی میں شدید مندی کا سامنا کیا، جس کی بڑی وجہ مسلسل تین سال کی مضبوط تیزی کے بعد منافع کے حصول کی سرگرمیاں اور جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال رہی۔ اس دوران بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں تقریباً 15 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

ٹاپ لائن سیکیورٹیز لمیٹڈ کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اس مندی کے باعث پاکستان اسٹاک ایکسچینج عالمی سطح پر کمزور کارکردگی دکھانے والی مارکیٹوں میں شامل رہی، جہاں بھارت اور انڈونیشیا کی مارکیٹس بھی دباؤ کا شکار رہیں۔

رپورٹ کے مطابق بینچ مارک کے ایس ای ہنڈریڈ انڈیکس نے مالی سال 2026 کی تیسری سہ ماہی (3QFY26) کے دوران ڈالر کے حساب سے منفی 14.6 فیصد منافع دیا، جس کے باعث پاکستان دنیا کی تین کمزور ترین کارکردگی والی مارکیٹس میں شامل ہو گیا۔

اعداد و شمار کے مطابق دیگر علاقائی مارکیٹس بھی دباؤ کا شکار رہیں، جہاں بھارت اور انڈونیشیا بالترتیب پہلے اور دوسرے نمبر پر رہے، جنہوں نے ڈالر کے لحاظ سے منفی 19.4 فیصد اور 19 فیصد منافع ریکارڈ کیا۔

اس کے برعکس کچھ فرنٹیئر اور ابھرتی ہوئی مارکیٹس نے بہتر کارکردگی دکھائی۔ گھانا، عمان اور نائجیریا نمایاں رہے جہاں بالترتیب 43.6 فیصد، 42.3 فیصد اور 34.1 فیصد مثبت منافع حاصل ہوا۔

ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے مطابق پاکستان کی کمزور کارکردگی کی بڑی وجہ بیرونی جغرافیائی خطرات ہیں، خصوصاً ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان بڑھتی کشیدگی، جس نے خطے کی مارکیٹس کو متاثر کیا۔

اس کے ساتھ ساتھ ملک میں بڑھتی مہنگائی اور عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اضافے نے بھی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو نقصان پہنچایا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ سال بہترین کارکردگی دکھانے والی پاکستانی ایکویٹی مارکیٹ بیرونی جھٹکوں اور معاشی غیر یقینی صورتحال کے باعث اب شدید دباؤ کا شکار ہے۔

گزشتہ ہفتے کے دوران بھی کے ایس ای ہنڈریڈ انڈیکس میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا اور مارکیٹ فروخت کے دباؤ میں رہی۔ انڈیکس 150,399 پوائنٹس پر بند ہوا، جو ہفتہ وار بنیاد پر 0.9 فیصد کمی یعنی 1,309 پوائنٹس کی گراوٹ ظاہر کرتا ہے۔

ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے مطابق حکومت کی جانب سے فیول سبسڈی ختم کرنے کے اعلان کے بعد مارکیٹ میں مزید مندی دیکھنے میں آئی، جس کے تحت ڈیزل کی قیمت میں 55 فیصد اور پیٹرول کی قیمت میں 43 فیصد اضافہ کیا گیا، جس سے سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید متاثر ہوا۔

تاہم قیمتوں میں اس بڑے اضافے کے ایک روز بعد وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا کہ حکومت ایک ماہ کے لیے پیٹرول پر پیٹرولیم لیوی میں 80 روپے فی لیٹر کمی کرے گی۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles