امریکا نے ایران میں گرنے والے اپنے ایف-15 فائٹر جیٹ کے پائلٹ اور ویپن کنٹرولر کو باحفاظت ریسکیو کرلیا ہے۔ اس دوران دونوں ممالک کے درمیان امریکی طیارے کے عملے تک پہلے پہنچنے کی دوڑ لگی ہوئی تھی۔ جمعہ کو طیارہ گرنے کے بعد سے دونوں ممالک کے دستے ایک دوسرے کو مات دینے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس خطرناک صورتحال میں یہ سوال عام ہے کہ آخر ایک پائلٹ دشمن کے علاقے میں گرنے کے بعد خود کو قید سے کیسے بچاتا ہے؟
ماہرین کے مطابق یہ صرف قسمت کا کھیل نہیں بلکہ برسوں کی سخت تربیت، جدید ٹیکنالوجی اور جبلت کا مجموعہ ہوتا ہے۔
امریکی فضائیہ کے ریٹائرڈ بریگیڈیئر جنرل ہیوسٹن کینٹ ویل نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ جب طیارے کو میزائل لگتا ہے تو پائلٹ کے پاس باہر نکلنے (ایجیکٹ) کے لیے صرف چند سیکنڈ ہوتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ وہ لمحہ انتہائی ہولناک ہوتا ہے، جب آپ ایک لمحے پہلے جدید ترین جہاز اڑا رہے ہوتے ہیں اور اگلے ہی لمحے آپ کے سر سے چند فٹ دور دھماکہ ہوتا ہے اور آپ فضا میں ہوتے ہیں۔
بریگیڈیئر جنرل ہیوسٹن کینٹ ویل کے مطابق، زمین پر اترنے کے بعد اصل امتحان شروع ہوتا ہے جسے ’سیری‘ (SERE) ٹریننگ کہا جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس تربیت میں پائلٹس کو سکھایا جاتا ہے کہ وہ کس طرح دشمن سے بچیں، مشکل حالات میں زندہ رہیں اور ریسکیو ٹیموں تک پہنچنے کے لیے اپنی شناخت چھپائے رکھیں۔
پائلٹ کے پاس بقا کے لیے ایک مکمل نظام موجود ہوتا ہے جو اس کی سیٹ کے نیچے ایک کٹ کی صورت میں ہوتا ہے۔
پیراشوٹ سے نیچے آتے وقت پائلٹ کو سب سے پہلے یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ اسے کہاں اترنا ہے اور کن علاقوں سے بچنا ہے۔
زمین پر قدم رکھتے ہی پائلٹ سب سے پہلے اپنے زخمی ہونے کا جائزہ لیتا ہے کیونکہ ایجیکشن کے دوران ہڈیوں کا ٹوٹنا ایک عام بات ہے۔
ویتنام جنگ کی مثالیں دیتے ہوئے ماہرین بتاتے ہیں کہ کئی پائلٹ صرف جہاز سے باہر نکلنے کے جھٹکے سے ہی شدید زخمی ہو گئے تھے۔

اگر پائلٹ زخمی نہ ہو تو اس کی پہلی ترجیح دشمن کی نظروں سے اوجھل ہونا اور کسی محفوظ جگہ سے اپنے بیس پر رابطہ کرنا ہوتا ہے۔
کینٹ ویل کہتے ہیں کہ ”جب تک ہو سکے دشمن کی قید سے بچنے کی کوشش کریں اور اگر میں صحرائی ماحول میں ہوتا، تو میری کوشش ہوتی کہ کہیں سے پانی تلاش کر سکوں۔“
پائلٹ کی جان بچانے والی سروائیول کٹ میں پانی، توانائی بخش خوراک، ابتدائی طبی امداد کا ساما، اور سگنل دینے والے آلات جیسے کہ فلیئرز، دھویں والے بم اور سیٹلائٹ ریڈیو شامل ہوتے ہیں۔ یہ سامان تین سے سات دن تک زندہ رہنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔
تھرمل بلینکٹ (حرارت برقرار رکھنے والے کمبل) اور آگ جلانے والے آلات جیسے کہ ماچس کی موجودگی کی وجہ سے یہ کٹ شدید موسمی حالات سے نمٹنے میں بھی مدد دیتی ہے۔

اس کے علاوہ پائلٹس ایک خصوصی جیکٹ (سروائیول ویسٹ) بھی پہنتے ہیں، جس میں ہیلمٹ، ریڈیو اور اسلحہ جیسی اضافی اشیاء شامل ہوتی ہیں۔
اس دوران ترجیح رابطے اور رہنمائی کے آلات کو دی جاتی ہے، کیونکہ ’سروائیول ریڈیوز‘ پائلٹس کو امدادی ٹیموں کے ساتھ رابطے میں رہنے میں مدد دیتے ہیں، جبکہ قطب نما، سگنل آئینے اور جی پی ایس بیکنز انہیں اپنی لوکیشن کی شناخت کرنے اور اسے منتقل کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔
دوسری طرف، پینٹاگون کی ’کومبیٹ سرچ اینڈ ریسکیو‘ ٹیمیں ہمہ وقت الرٹ رہتی ہیں۔
ریٹائرڈ ماسٹر سارجنٹ سکاٹ فیلس، جو صومالیہ کے مشہور ’بلیک ہاک ڈاؤن‘ واقعے کا حصہ رہ چکے ہیں، بتاتے ہیں کہ کسی بھی مشن سے پہلے ریسکیو کا منصوبہ تیار ہوتا ہے۔
ان کے مطابق، ڈرونز، انٹیلی جنس اور سگنلز کے ذریعے پائلٹ کی لوکیشن معلوم کی جاتی ہے اور پھر ایک ایسی ٹیم روانہ کی جاتی ہے جو دشمن کے علاقے سے پائلٹ کو نکال لانے کی ماہر ہوتی ہے۔
دشمن کے علاقے میں پائلٹ کو بچانے کا مشن محض ایک فوجی کارروائی نہیں بلکہ یہ اس بات کا ثبوت ہوتا ہے کہ فوج اپنے سپاہی کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتی۔
تاہم، جب دونوں ممالک کی فورسز آمنے سامنے ہوں تو ہر گزرتا ہوا لمحہ اس پائلٹ کی زندگی اور قید کے درمیان ایک باریک لکیر ثابت ہوتا ہے۔