
معروف امریکی اخبار نے انکشاف کیا ہے کہ پیٹ ہیگسیتھ عہدہ چھن جانے کے خوف سے وزیرِ جنگ کے لیے موزوں افسران کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ آرمی سیکریٹری ڈین ڈریسکول ان کے بعد موزوں ترین امیدوار ہیں، جنہیں اس لیے نہیں ہٹایا جاسکتا کیوں کہ انہیں دوست اور کلاس فیلو ہونے کی وجہ سے نائب صدر جے ڈی وینس کی حمایت حاصل ہے۔
امریکی اخبار نیویارک پوسٹ کے مطابق وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسیتھ کو اپنی نوکری چھن جانے کا خوف لاحق ہے۔ اس لیے وہ ہر اس شخص کو نشانہ بنا رہے ہیں جو ان کی جگہ لے سکتا ہے۔
اخبار نے امریکا کے حاضرِ سروس اور سابق حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ پیٹ ہیگسیتھ کو خدشہ ہے کہ ان کے بعد آرمی سیکریٹری ڈین ڈریسکول کو وزیرِ جنگ بنایا جاسکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ڈریسکول کے قریبی سمجھے جانے والے آرمی چیف آف اسٹاف سمیت تین اعلیٰ جنرلز کو عہدوں سے ہٹا دیا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیرِ جنگ کا آرمی سیکریٹری ڈریسکول کے ساتھ شدید تنازع چل رہا ہے، پیٹ ہیگسیتھ انہیں بھی عہدے سے ہٹانا چاہتے ہیں لیکن وائٹ ہاؤس نے فی الحال انہیں ایسا کرنے سے روک دیا ہے۔
ڈریسکول امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے قریبی دوست ہیں، دونوں نے اکٹھے عراق جنگ میں حصہ لیا اور ییل لاء اسکول میں بھی ساتھ تعلیم حاصل کی۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی نائب صدر پسِ پردہ ڈریسکول کی مکمل حمایت کر رہے ہیں۔
گزشتہ برس بھی ڈریسکول کا نام ممکنہ وزیرِ دفاع کے طور پر زیرِ گردش رہا تھا جب کہ روس یوکرین جنگ میں مذاکراتی کردار ملنے کے بعد ان کی اہمیت مزید بڑھ گئی۔
امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے دوران پیٹ ہیگسیتھ نے فوج کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ایک درجن سے زائد سینیئر افسران کو برطرف یا جبری ریٹائرمنٹ پر بھیج دیا ہے۔ جس میں کئی افسران وہ ہیں جو عراق، افغانستان اور خلیجی جنگوں میں برسوں خدمات انجام دیتے رہے۔
ایک امریکی اہلکار نے صورت حال بتاتے ہوئے کہا کہ یہ سب اس عدم تحفظ اور خوف کا نتیجہ ہے جو ’سگنل گیٹ‘ واقعے کے بعد سے پیٹ ہیگسیتھ کے ذہن میں پیدا ہوا ہے۔ بدقسمتی سے ان کے قریبی ساتھی بھی اس آگ کو ہوا دے رہے ہیں۔
واضح رہے کہ مارچ 2025 میں پیٹ ہیگسیتھ کی قومی سلامتی کے حکام کے ساتھ ہونے والی ایک نجی گروپ چیٹ میں غلطی سے ایک صحافی بھی شامل ہو گیا تھا، اس سنگین کوتاہی کو ’سگنل گیٹ‘ کا نام دیا گیا تھا۔
امریکی صدر جس روز ایران جنگ پر عوام کو بتا رہے تھے کہ جنگ درست سمت میں جا رہی ہے۔ اس کے اگلے ہی روز امریکی فوج کے اعلیٰ ترین جنرلز کو فارغ کرنے سے صدر ٹرمپ کا وہ پیغام مکمل طور پر غلط ثابت ہوا۔
حال ہی میں ہوم لینڈ سیکیورٹی کی سیکریٹری کرسٹی نوم اور اٹارنی جنرل پام بونڈی کی برطرفی نے بھی انتظامیہ میں بے یقینی پیدا کی ہے جب کہ جمعے کے روز جدید طیاروں کے نقصان اور ایک پائلٹ کی گمشدگی سے امریکی انتظامیہ کے مسائل میں مزید اضافہ یقینی ہے۔
دوسری جانب ایرانی حکام اس صورت حال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکی انتظامیہ پر خوب طنز کر رہے ہیں۔ جمعے کے روز ایرانی حکام نے سوشل میڈیا پر امریکی فوج کے برطرف عہدیداروں کی تصاویر پر ’کراس‘ لگا کر طنز کرتے ہوئے لکھا ’رجیم چینج کامیابی سے مکمل ہو گیا‘۔
یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے اپنے پہلے انتخاب میٹ گیٹس کو منظوری نہ ملنے کے بعد پیٹ ہیگستھ کو وزیرِ دفاع مقرر کیا تھا۔ اپنے عہدے کے دوران ہیگسیتھ کو متعدد تنازعات کا سامنا رہا ہے جب کہ بعض رپورٹس کے مطابق ایران سے متعلق جنگی حکمت عملی پر بھی انہیں تنقید کا سامنا ہے۔