امریکی فوج میں رجیم چینج: وزیرِ دفاع کے صنفی امتیاز اور نسل پرستانہ اقدامات

امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے دوران امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) میں ایک بڑا انتظامی طوفان برپا ہے جہاں وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے فوج کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ایک درجن سے زائد سینیئر افسران کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا ہے یا انہیں جبری ریٹائرمنٹ پر بھیج دیا ہے۔

ان تبدیلیوں نے امریکی فوج کے ان تجربہ کار کمانڈروں کو متاثر کیا ہے جنہوں نے عراق، افغانستان اور خلیجی جنگوں میں کئی دہائیاں گزاریں۔

ان کارروائیوں کے بارے میں نو امریکی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ کئی افسران کو ان کی نسل، صنف یا سابق صدر جو بائیڈن کی پالیسیوں سے ہمدردی کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا ہے۔

اس سلسلے کی تازہ ترین کڑی جمعرات کو سامنے آئی جب آرمی چیف آف اسٹاف جنرل رینڈی اے جارج کو فوری طور پر عہدہ چھوڑنے اور ریٹائر ہونے کا حکم دیا گیا۔

پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے ایک بیان میں کہا کہ ہم جنرل جارج کی دہائیوں پر محیط خدمات کے مشکور ہیں لیکن اب آرمی کی قیادت میں تبدیلی کا وقت آگیا تھا۔

جنرل جارج، جنہوں نے 2023 میں یہ عہدہ سنبھالا تھا، عام طور پر 2027 تک اپنی مدت پوری کرتے۔ ان کے ساتھ ساتھ آرمی کے ٹریننگ کمانڈ کے سربراہ جنرل ڈیوڈ ہوڈنے اور میجر جنرل ولیم گرین جونیئر کو بھی برطرف کر دیا گیا ہے۔

جنرل جارج کی جگہ وائس چیف آف اسٹاف جنرل کرسٹوفر لانیو کو قائم مقام آرمی چیف مقرر کیا گیا ہے، جن کے بارے میں ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ وزیر دفاع ہیگستھ کے مکمل قابلِ اعتماد اور ان کے وژن پر عمل کرنے والے افسر ہیں۔

اس بڑی تبدیلی کی زد میں آنے والوں میں کچھ انتہائی اہم نام شامل ہیں۔ بحریہ کی تاریخ میں پہلی خاتون سربراہ ایڈمرل لیزا فرانچیٹی کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ اسی طرح جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل چارلس کیو براؤن جونیئر، جو کہ ایک مایہ ناز فائٹر پائلٹ اور تجربہ کار رہنما ہیں، انہیں بھی برطرف کر دیا گیا ہے۔

دفاعی انٹیلی جنس ایجنسی کے ڈائریکٹر لیفٹیننٹ جنرل جیفری کروز کو اس رپورٹ کے بعد ہٹایا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ ایران کی ایٹمی تنصیبات پر امریکی حملوں کے اثرات بہت محدود رہے ہیں، جو کہ صدر ٹرمپ کے عوامی دعوؤں کے برعکس تھا۔

اس کے علاوہ میشنمل سیکیورٹی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل ٹموتھی ڈی ہاف اور کئی دیگر تھری اسٹار اور فور اسٹار جرنیلوں کو بھی فارغ کر دیا گیا ہے۔

سیاسی اور دفاعی ماہرین نے ان تبدیلیوں کو فوج کے اندر سیاسی مداخلت قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے۔

ایک ریٹائرڈ سینیئر فوجی افسر نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بغیر کسی وضاحت کے اس طرح کی مداخلت ہمارے افسران کے اندر ایک خوف کا سایہ پیدا کر دے گی، کیونکہ انہیں لگے گا کہ ان کے پورے کیریئر کے کام کو ایک قلم کی جنبش سے سیاسی رنگ دے کر ختم کیا جا سکتا ہے۔

پینٹاگون کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ہیگستھ نے درجن بھر سے زائد سیاہ فام اور خاتون افسران کی ترقیاں بھی روک دی ہیں، حالانکہ ان کے ناموں کی سفارش پیشہ ورانہ بنیادوں پر کی گئی تھی۔

ماہرین کے مطابق اس سے فوج کے اندر اس اعتماد کو ٹھیس پہنچے گی کہ ترقیاں صرف کارکردگی کی بنیاد پر ہوتی ہیں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles