
ایران نے سرحدی صوبے کی فضائی حدود میں امریکا کے ایک جنگی طیارے کو مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے، جس کے بعد گمشدہ پائلٹ کی تلاش کیلئے امریکی اور ایرانی فورسز متحرک ہو گئی ہیں۔ امریکا نے اب تک جہاز گرنے کی تصدیق یا تردید نہیں کی تاہم بین الاقومی میڈیا نے ایران کے سرحدی علاقوں میں امریکی فضائیہ کی جانب سے سرچ آپریشن کی تصدیق کی ہے۔
ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے جمعے کے روز جاری بیان میں کہا کہ اس کے جدید اور مقامی طور پر تیار کردہ فضائی دفاعی نظام نے ایران کے سرحدی علاقے میں ایک ایف 35 اسٹیلتھ لڑاکا طیارے کو مار گرایا ہے۔ کچھ میڈیا رپورٹس میں پائلٹ کی گرفتاری کا دعویٰ کیا گیا ہے تاہم اس کی تاحال تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی افواج نے پائلٹ کے زندہ ہونے کے امکان کے پیشِ نظر اس کی تلاش اور ایران کی سرحدوں سے باہر نکالنے کی کوشش کی۔
امریکی فوج نے اس آپریشن میں بلیک ہاک ہیلی کاپٹرز اور سی 130 طیارے کے ذریعے پائلٹ کی تلاش شروع کی تاہم یہ کارروائی تاحال بے نتیجہ رہی ہے۔
بعض میڈیا یہ رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ طیارہ مار گرائے جانے کے بعد پائلٹ نے محفوظ طریقے سے ’ایجیکٹ‘ کر کے ایرانی حدود میں لینڈنگ کی تھی۔
تسنیم نیوز کے مطابق جنوب مغربی ایران کے سرحدی صوبے میں دستیاب معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی پائلٹ اسی علاقے میں موجود ہوسکتا ہے۔
تسنیم نیوز نے ہی ایک رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی پائلٹ کو ممکنہ طور پر ایرانی فورسز نے حراست میں لے لیا ہے۔
ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق جنوب مغربی ایران میں مقامی لوگوں نے بھی پرائیویٹ گاڑیوں میں جائے حادثہ کے آس پاس علاقے میں پہنچنے کی کوشش کی تاکہ پائلٹ کو تلاش کیا جاسکے۔
ایرانی مسلح افواج نے عوام سے امریکی پائلٹ ملنے کی صورت میں اس کے ساتھ قسم کی بدسلوکی نہ کرنے کی اپیل کی ہے جب کہ میڈیا پر امریکی پائلٹ کو ڈھونڈنے پر انعام کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔