
امریکا کی جانب سے ایک بار پھر ایران کے ساتھ سفارتی راستہ اپنانے کا عندیہ دیا گیا ہے، جبکہ دوسری جانب سخت بیانات اور تنبیہات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان ٹومی پگوٹ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ سفارتکاری کے لیے ہمیشہ تیار رہتے ہیں اور مسائل کے حل کے لیے ڈپلومیسی کو ترجیح دیتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا اب بھی ایران کے ساتھ مذاکرات کے دروازے کھلے رکھنا چاہتا ہے۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایران کے ایک بڑے پل کی تباہی کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران کا سب سے بڑا پل مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے اور اب یہ کبھی استعمال کے قابل نہیں رہے گا۔
انہوں نے اس موقع پر تہران کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ابھی بھی وقت ہے کہ ایران کسی معاہدے کی جانب آئے، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔
صدر ٹرمپ کے اس بیان کو ایک طرف دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی قرار دیا جا رہا ہے تو دوسری جانب امریکی حکام کی جانب سے مسلسل سفارتی آمادگی کے بیانات صورتحال کو پیچیدہ بنا رہے ہیں۔