
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران پر زور دیا ہے کہ وہ دیر ہونے سے پہلے معاہدہ کر لے. انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بھی شیئر کی جس میں ایران کے ایک بڑے پل کو حملے میں تباہ ہوتے دکھایا گیا ہے۔
جمعرات کو امریکی اور اسرائیلی افواج کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کو فوری طور پر معاہدہ کرنا چاہیے، اس سے پہلے کہ صورت حال مزید خراب ہو جائے۔
انہوں نے ایک حملے کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا ’ایران کا سب سے بڑا پل گر کر تباہ ہو گیا ہے، جو اب کبھی استعمال نہیں ہو سکے گا۔ ابھی مزید بہت کچھ ہونا باقی ہے‘۔
صدر ٹرمپ نے لکھا کہ ’اب وقت آ گیا ہے کہ ایران ڈیل کر لے کہ اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے اور ایک عظیم ملک بننے کی صلاحیت رکھنے والے اس ملک میں کچھ بھی باقی نہ بچے‘۔
ایرانی میڈیا کے مطابق کرج شہر میں واقع 136 میٹر بلند ’بی ون‘ نامی یہ پل زیرِ تعمیر تھا اور اسے مشرقِ وسطیٰ کا بلند ترین پل تصور کیا جاتا ہے، جس کا افتتاح رواں سال کے اوائل میں کیا گیا تھا۔
اس پُل کرج شہر کو ایرانی دارالحکومت تہران سے ملانے والی ایک بڑی اور اہم شاہراہ کا حصہ بننا تھا۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق اس بڑے اسٹرکچر پر ہونے والے فضائی حملے کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔
یاد رہے کہ بدھ کے روز صدر ٹرمپ نے اپنی ایک تقریر میں دعویٰ کیا تھا کہ جنگ تقریباً ختم ہو چکی ہے تاہم انہوں نے یہ دھمکی بھی دی تھی کہ اگر ایران امریکی شرائط پر جنگ بندی پر راضی نہ ہوا تو اسے شدید بمباری کا سامنا کرنا ہوگا۔
دوسری جانب ایرانی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل نے تہران میں ایک صدی پرانے طبی مرکز کو بھی بمباری کا نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی حکام کی جانب سے جاری کردہ تصاویر میں ایک تباہ شدہ عمارت دیکھی جا سکتی ہے، جس کی شناخت ’پاسچر انسٹی ٹیوٹ آف ایران‘ کے نام سے کی گئی ہے۔