پیٹرول کی قیمت میں 136 روپے کا بڑا اضافہ، نئی قیمت 458 روپے فی لیٹر مقرر


حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا اعلان کر دیا ہے، وفاقی وزرا نے عالمی منڈی میں قیمتوں میں اضافے اور معاشی دباؤ کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ ساتھ ہی حکومت نے عام آدمی کو ریلیف دینے کے لیے موٹرسائیکل سواروں کو تین ماہ تک فی لیٹر 100 روپے سبسڈی دینے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔
اسلام آباد میں میں وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک اور وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے مشترکہ پریس کانفرنس میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا اعلان کر دیا۔
پیٹرول کی قیمت میں 137 روپے 23 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 458 روپے 40 پیسے فی لیٹر ہو گئی، جب کہ ڈیزل کی قیمت 184 روپے بڑھا کر 520 روپے 35 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر قائم کمیٹی گزشتہ چار ہفتوں سے قیمتوں کا جائزہ لے کر اضافہ کر رہی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ حکومت نے موٹرسائیکل سواروں کے لیے تین ماہ کی سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت انہیں فی لیٹر 100 روپے سبسڈی دی جائے گی تاکہ عام آدمی پر بوجھ کم کیا جا سکے۔
وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے اور موجودہ حالات میں حکومت کو مشکل مگر ذمہ دارانہ فیصلے کرنا پڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت قوم کو اتحاد کی ضرورت ہے اور حکومت تمام فیصلے ملکی مفاد کو سامنے رکھ کر کر رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ خام تیل اور ڈیزل کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے، جبکہ حکومت پہلے ہی عوام کو 129 ارب روپے کی سبسڈی دے چکی ہے۔ اب فیصلہ کیا گیا ہے کہ عمومی سبسڈی کے بجائے کمزور طبقات کو براہ راست ریلیف فراہم کیا جائے گا۔
علی پرویز ملک نے بتایا کہ کفایت شعاری کے تحت سرکاری گاڑیوں کا استعمال محدود کیا گیا ہے، جبکہ خارجہ محاذ پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں اور اتحادیوں کے تعاون پر بھی شکریہ ادا کیا۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles