ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کے لیے ٹرانزٹ فیس مقرر کرے گا: نائب وزیرِ خارجہ

ایرانی نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ ایران اور عمان جنگ کے بعد آبنائے ہرمز میں محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانے کے لیے مشترکہ پروٹوکول پر کام کر رہے ہیں، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ امریکا اور اسکے اتحادی ممالک کے تجارتی یا فوجی جہازوں کو جنگ کے بعد بھی آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

روسی خبر رساں ادارے ’اسپوٹنک‘ کو دیے گئے انٹرویو میں ایران کے نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا کہ آبنائے ہرمز معمول کی ٹریفک کے لیے کھلی تھی تاہم حالیہ امریکی و اسرائیلی جارحیت نے محفوظ جہاز رانی کو متاثر کیا اور سنگین چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ ایران اس وقت حالتِ جنگ میں ہے اور اسی جنگ کے نتیجے میں امریکا اور اس کے اتحادیوں پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان حالات میں امن کے دور کے قوانین کے اطلاق کی توقع رکھنا غیر حقیقت پسندانہ ہے۔

کاظم غریب آبادی نے خبردار کیا کہ جنگ کے بعد بھی خطے کو مزید جارحیت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، کیوں کہ کچھ ممالک اب بھی جنگ کو اپنی پالیسی کے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ایسی کسی بھی صورت حال میں جارح ممالک اور ان کے حامیوں کے تجارتی یا فوجی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور مستقبل میں یہ طریقہ کار ایران کی اصولی پالیسی کا حصہ ہوگا۔

ایرانی نائب وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ ایران اور عمان آبنائے ہرمز پر ساحلی ممالک ہونے کی حیثیت سے باہمی ہم آہنگی کے ذریعے محفوظ اور یقینی جہاز رانی کے لیے پرعزم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران جلد ہی آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کے لیے ٹرانزٹ فیس مقرر کرے گا اور حالات معمول پر آتے ہی اس آبی گزرگاہ سے گزرنے والے تمام جہازوں سے توقع کی جائے گی کہ وہ اپنی حفاظت یقینی بنانے کے لیے پیشگی طور پر ایرانی اور عمانی حکام کے ساتھ رابطہ کریں اور ضروری اجازت نامے (پرمٹ) حاصل کریں۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ ایران اور عمان جہازوں کی آمد و رفت کو ریگولیٹ کرنے کے لیے ایک پروٹوکول کے مسودے پر کام کر رہے ہیں۔ جس کا مقصد پابندیاں عائد کرنا نہیں بلکہ محفوظ سفری سہولیات کو یقینی بنانا اور جہازوں کو بہتر سروسز فراہم کرنا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ مسودے کی تیاری آخری مراحل میں ہے اور اندرونی سطح پر اس کی تکمیل کے بعد ایران اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ سے جہازوں کی نقل و حرکت کے مشترکہ پروٹوکول کو حتمی شکل دینے کے لیے عمان کے ساتھ باضابطہ مذاکرات کا آغاز کرے گا۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles